منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کیا ن لیگ کا مشکل وقت ختم ہو رہاہے؟ نواز شریف ضمانت پر گھر بیٹھے ہیں‘ مریم نواز اورکیپٹن صفدر بھی ضمانت پر ہیں‘ شہباز شریف لندن جا چکے ،حکومت نواز شریف کے دونوں بیٹوں کو بھی لندن سے واپس نہیں لا سکی،این آر او کون لے گا اور کون دے گا؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

آج لاہور ہائی کورٹ نے حنیف عباسی کی سزا معطل کر دی‘ یہ راولپنڈی کے عوام اور ن لیگ دونوں کیلئے بڑی خبر ہے‘ اس رہائی کے بعد یہ سچ سٹیبلش ہوتا نظر آ رہا ہے کہ ن لیگ کا مشکل وقت ختم ہو رہا ہے‘ میاں نواز شریف ضمانت پر گھر بیٹھے ہیں‘ مریم نواز اورکیپٹن صفدر بھی ضمانت پر ہیں‘ میاں شہباز شریف لندن جا چکے ہیں‘ نیب کو حمزہ شہباز شریف کے ایشو پر پسپائی اختیار کرنی پڑ گئی اور حکومت ریڈوارنٹ کے باوجود میاں نواز شریف کے دونوں بیٹوں کو بھی لندن سے واپس نہیں لا سکی‘

دوسری طرف آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی ضمانتوں میں بھی توسیع پر توسیع ہوتی چلی جا رہی ہے‘ ان حالات میں حنیف عباسی کی بریت نے حکومت کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایا‘ اب اگر زرداری صاحب بھی اپریل میں گرفتار نہیں ہوتے اور خواجہ سعد رفیق کی ضمانت بھی ہو جاتی ہے تو پھر کرپشن کے خلاف حکومت کا پورا بیانیہ خطرے میں پڑ جائے گا‘ حکومت کی بیڈ گورننس‘ بیڈ پرفارمنس اور آنے والا عوام دشمن بجٹ کرپشن کے بیانیے کو مکمل طور پر دفن کر دے گا لیکن آپ کمال دیکھئے حکومت کے تمام وزراء حتیٰ کہ خود وزیراعظم بھی اپنا کام چھوڑ کر این آر او نہیں دیں گے کے اعلان پر اعلان کرتے چلے جا رہے ہیں، آپ کسی وزیر کی پریس کانفرنس دیکھ لیجئے یہ آپ کو اپنی وزارت کی بات کم اور این آر او اور احتساب کی بات زیادہ کرتا نظر آئے گا‘ آج ریونیو کے وزیر حماد اظہر نے بھی پریس کانفرنس کی‘ یہ بھی ریونیو کی بات کرنے کی بجائے این آر او نہیں دیں گے کا دعویٰ کر کے واپس چلے گئے‘ سوال یہ ہے نیب جب عدالتوں کو مطمئن نہیں کر پا رہا اور جس شخص کا بھی مقدمہ چلتا ہے وہ ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے تو این آر او کون لے گا اور کون دے گا‘ کیا حکومت کوان تبدیلیوں کا ادراک نہیں ہو رہا، جبکہ وزیراعظم نے 9اپریل کوغیرملکی صحافیوں کو انٹرویو میں نریندر مودی کے بارے میں فرما دیا‘بی جے پی لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے بہتر ماحول بن سکتا ہے‘ اپوزیشن اسے عمران خان کی طرف سے مودی کی الیکشن کمپیئن قرار دے رہی ہے‘ مولانا فضل الرحمن نے کل اس پربہت خوبصورت تبصرہ کیا، وزیراعظم کو یہ فرنٹ کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…