منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ڈالر کی قدر روز بڑھ رہی ہے پتہ نہیں حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے ؟ حکومت اربوں روپے وصول تو کرلیتی ہے لیکن پیسے جاتے کہاں ہیں؟ لاہو رہائیکورٹ بھی شدید برہم

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس امیر بھٹی نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں اور ڈالر کی قدر روز بڑھ رہی ہے لیکن پتہ نہیں حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں سرکاری ٹھیکیداروں کو حکومت کی جانب سے ادائیگیاں نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت جسٹس امیر بھٹی حکومت پر برس پڑے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ حکومت ٹھیکیداروں سے کام کروالیتی ہے لیکن پیسے نہیں دیتی، بظاہر حکومت ٹھیکیداروں سے فراڈ کررہی ہے، عوام سے فراڈ برداشت نہیں کریں گے۔عدالت کے روبرو سیکریٹری خزانہ پنجاب نے کہا کہ ہم طے ٹیکس کے طے شدہ اہداف حاصل نہیں کر پائے۔ پنجاب میں 100ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیئے کہ عوام مہنگائی میں پس رہے ہیں، ایگزیکٹو فیل ہوچکی ہے، ڈالر کی قیمت روز بڑھ رہی ہے، پتہ نہیں حکومت کہاں سوئی ہوئی ہے کبھی پیٹرول پر ٹیکس بڑھا کر مہنگائی کردی، یہاں حکومت نام کی چیز نہیں ہے، عوام کو کچھ ریلیف نہیں مل رہا اور حکومت میں آنیاں جانیاں لگی ہوئی ہیں، پہلے بھی یہی سسٹم تھا لیکن اتنا مہنگاحج اور غیر یقینی صورتحال نہیں تھی۔جسٹس امیر بھٹی نے مزید ریمارکس دیئے کہ حکومت روز کسی نہ کسی ملک کے سربراہ کو بلا کر اربوں روپے مانگتی ہے، اربوں ڈالر لینے کے بعد ڈالر کی قیمت نیچے جانے کے بجائے اوپر جارہی ہے، حکومت اربوں روپے وصول تو کرلیتی ہے لیکن پیسے جاتے کہاں ہیں؟ یہ کسی کو نہیں پتہ، ڈالر کو روکنے کے بجائے حکومت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے، اور کچھ نہیں ہوسکتا تو کم از کم ڈالر کو ہی روک لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…