منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مہنگائی ملکی تاریخ کی بلندترین سطح پر،پاکستان اپنے ہمسایوں میں مہنگا ترین ملک بن چکا،سوال یہ ہے اگرابھی اسد عمر کا پلان آنا ہے تو پھر پچھلے آٹھ ماہ میں کس کا پلان چل رہا تھا؟ آگے کیا ہوگا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

خواتین وحضرات ۔۔ کسی گاؤں میں ایک خاتون نے مراسی کے ساتھ شادی کر لی‘ ایک بیٹا پیدا ہوا‘ شادی نہ چل سکی‘ خاتون نے طلاق لے کر درزی سے شادی کر لی‘ یہ شادی بھی نہ چل سکی‘ خاتون نے تیسری شادی گاؤں کے پیر صاحب سے کر لی‘ خاتون کا بیٹا مختلف خاوندوں کے گھر پل کر بڑا ہوتا رہا‘ ایک دن کسی نے خاتون کے بیٹے سے (اس) کی ذات پوچھ لی‘ بچے نے ہنس کر جواب دیا‘ پہلے میں مراسی تھا‘ پھر میں درزی ہوا‘ اب میں پیر ہوں اور آگے جو اماں چاہے۔

ادارہ شماریات ملک کا معتبر ادارہ ہے‘ ۔۔اس نے آج ملک میں مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کئے ہیں‘ حکومت کے اپنے ادارے کے مطابق مہنگائی کی شرح 9 اعشاریہ 41 فیصد ہو چکی ہے اور یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے‘ صرف فروری اور مارچ ایک ماہ میں مہنگائی میں ایک اعشاریہ 42 فیصد اضافہ ہوا‘ ہم اگر ۔۔اس شرح کا تقابل خطے کے دوسرے ملکوں سے کریں تو آپ حیران ہو جائیں گے‘ افغانستان میں چار فیصد‘ چین میں1.7 فیصد‘بھارت میں2.57 فیصد‘ بنگلہ دیش میں5.47 فیصد اورسری لنکا میں 4.3 فیصدہے گویا ہم اپنے ہمسایوں میں مہنگے ترین ملک ہو چکے ہیں اور یہ (اس) وزیراعظم کے دور کی صورتحال ہے جو آج سے محض آٹھ ماہ پہلے بڑے دعوے کیاکرتے تھے ،آپ وزیراعظم کے دعوے دیکھئے اور آج ۔۔ان دعوؤں کا نتیجہ بھی دیکھئے‘ کھانے پینے کی تمام اشیاء ڈیڑھ سے دو گنا مہنگی ہو چکی ہیں‘ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ،گیس میں278 فیصد اور کرایوں میں25فیصد اضافہ ہو چکا ہے‘ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں پرسوں 6 روپے اضافہ کر دیا جبکہ ریونیو کی صورتحال یہ ہے سات ماہ میں سیلز ٹیکس میں 32 ارب 60 کروڑ روپے کمی ہو ئی‘ ایف بی آر کی مجموعی ٹیکس کولیکشن میں 236 ارب روپے کمی آئی‘ یہ کمی جون تک 300 ارب روپے ہو جائے گی جس کے بعد حکومت کیلئے بجٹ بنانا مشکل ہو جائے گا‘ ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی وجہ سے مزید 40 لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے آ گئے ہیں

جبکہ 10 لاکھ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے لیکن آج وزیر اطلاعات فواد چودھری نے یہ فرما کر پوری قوم کو حیران کر دیا وزیر اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے کہاہے کہ وزیرخزانہ معیشت کا جامع روڈ میپ جلد پیش کریں گے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ میثاق معیشت پر مسودہ تیار کر لیا ہے،میثاق معیشت مسودے کو منظوری کیلئے جمعرات کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پیش کیا جائیگا ، اثاثہ جات پر ایمنسٹی دینے پر غور کر رہے ہیں،

اسکیم اگر آئی تو بجٹ سے پہلے آئیگی،پاکستان کی معیشت اور فیصلہ سازی پر اشرافیہ کا قبضہ ہے،ہمارے ملک میں معیشت کے فیصلے معاشی حقائق پر مبنی ہونے چاہئیں ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اوگرا کرتا ہے،ہماری سفارشات کو کئی دفعہ وزیراعظم نے نہیں مانا،پارلیمنٹ سے ایک بار منظوری کے بعد اوگرا کو قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے اگرابھی اسد عمر کا پلان آنا ہے تو پھر پچھلے آٹھ ماہ میں کس کا پلان

چل رہا تھا‘ملک کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو گیا‘ آگے کیا ہو گا جو اماں چاہے گی وہ ہوگا‘ حکومت آٹھ ماہ کی بربادی‘ یہ تباہی کس کے کھاتے میں ڈالے گی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور کیا ملک معاشی طور پر ریڈزون میں داخل ہو چکا ہے اور ۔۔اس حکومت نے بھی ٹیکس ایمنسٹی لانے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ لوگ تو ایمنسٹی کے بھی خلاف ہوتے تھے‘ صرف آٹھ ماہ میں اتنی بڑی تبدیلی کیوں؟ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…