جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

20ارب ڈالرز کے معاہدے،پاکستانی قیدیوں کی رہائی،عمران خان کی بڑی کامیابی ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے دنیا میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا‘ سعودی عرب اس مہربانی پر پاکستان سے کیا توقع رکھے گا؟سعودی وزیر خارجہ نے پاکستانی سرزمین پر بیٹھ کر ایران کے بارے میں کیا کہا؟جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 18  فروری‬‮  2019 |

سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کا دو روزہ دورہ ختم ہو گیا‘ اس دورے سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا نیا دور شروع ہو گا‘ 20 ارب ڈالرز کے تجارتی ایم اویوز بھی سائن ہوئے اور ولی عہد نے عمران خان کی قیادت کی تعریف بھی کی

اور پاکستان کو 2030ء تک بڑی معاشی طاقت بھی ڈکلیئر کیا‘ یہ دورہ عمران خان کی حکومت کی ایک بڑی معاشی اچیومنٹ ہے لیکن اس سے بھی بڑی اچیومنٹ سعودی جیلوں میں بند 2 ہزار ایک سو سات پاکستانیوں کی رہائی ہے ، یہ عمران خان کی بڑی کامیابی ہے اور ہم اس کامیابی پر حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔سعودی عرب نے اس دورے کے دوران پیٹرو کیمیکل ‘ معدنی وسائل‘توانائی‘ سٹینڈرڈائزیشن ‘ کھیلوں اور سی پیک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ایم او یوز سائن کئے‘ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی‘ یہ اس بار بھی یقیناًہماری مدد کرے گا لیکن یہ بھی سچ ہے دنیا میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا‘ سعودی عرب اس مہربانی پر پاکستان سے کیا توقع رکھے گا‘ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ آج سعودی وزیر خارجہ نے پاکستانی سرزمین پر بیٹھ کر ایران کے بارے میں جو کچھ کہا پاکستان اس پر خاصا پریشان ہے ، ہمیں اس لنچ کی کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی اور پاکستان کو کہیں سعودی مہربانیوں کے جواب میں اپنے ہمسائے ایران کو ناراض تو نہیں کرنا پڑ جائے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…