اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

جسٹس ثاقب نثار تشریف لائے تھے تو(سپریم) کورٹ میں 32 ہزارمقدمات پینڈنگ تھے‘ یہ آج کتنے ہوگئے ہیں؟،جسٹس آصف سعید کھوسہ کیسے چیف جسٹس ہونگے؟کیا واقعی عمران خان پانچ سال پورے نہیں کر سکیں گے اورایسا واقعہ کیوں پیش آئے گا ؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 17  جنوری‬‮  2019 |

ترقی یافتہ ملکوں میں ادارے اہم اور شخصیات غیر اہم ہوتی ہیں‘ لوگ آئیں‘ لوگ نہ آئیں اور لوگ آ کر چلے جائیں اداروں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا‘یہ وہیں کے وہیں کھڑے رہتے ہیں جبکہ پسماندہ ملکوں میں شخصیات اہم اور ادارے غیر اہم ہوتے ہیں‘ ایک اچھا باس آ گیا تو ادارہ اچھا ہو گیا‘ برا آ گیا تو ادارہ برا‘ ایکٹو آ گیا تو ادارہ ایکٹو اور نالائق باس آ گیا تو پورا ادارہ نالائق ہو جاتا ہے‘ ہمارا المیہ بھی یہی ہے‘

ہمارے ملک میں پارلیمنٹ اہم نہیں ہوتی وزیراعظم اہم ہوتا ہے‘ پارٹی اہم نہیں ہوتی لیڈر اہم ہوتا ہے‘ نیب اہم نہیں ہوتی چیئرمین نیب اہم ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ اہم نہیں ہوتی چیف جسٹس اہم ہوتے ہیں‘ جسٹس ثاقب نثار آج ریٹائر ہو گئے‘ یہ بہت ایکٹو تھے‘ سپریم کورٹ بھی بہت ایکٹو تھی‘ یہ آج چلے گئے‘ کل سے جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے‘ اب سپریم کورٹ کیسی ہو گی یہ فیصلہ جسٹس کھوسہ کریں گے اور یہ کیا فیصلہ کرتے ہیں‘ یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا پھر یہ خود جانتے ہیں لیکن میری ان سے صرف اتنی درخواست ہے ملک میں اس وقت 19 لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں‘ جسٹس ثاقب نثار تشریف لائے تھے تو (سپریم) کورٹ میں 32 ہزارمقدمات پینڈنگ تھے‘ یہ آج جا رہے ہیں تو یہ تعداد40 ہزارہو چکی ہے گویا 8 ہزارمقدمات کا اضافہ ہوگیا آپ اور کچھ کریں یا نہ کریں لیکن کم از کم آپ کو پاکستان کا پہلا ایسا چیف جسٹس ضرور ہونا چاہیے جو جب ریٹائر ہو تو سپریم کورٹ میں کوئی مقدمہ زیر سماعت نہ ہو‘ دوسرا آپ اگر ادارے کو شخصیت سے بڑا بنادیں گے تو پوری قوم دہائیوں تک آپ کو یاد کرتی رہے گی ورنہ دوسری صورت میں آپ بھی ریٹائر ہو کر گم نامی میں گم ہو جائیں گے‘ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں، کیا واقعی عمران خان پانچ سال پورے نہیں کر سکیں گے اورایسا واقعہ کیوں پیش آئے گا اور چیف جسٹس کی تبدیلی سے سپریم کورٹ کی فلاسفی میں کیا فرق آئے گا‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…