پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

سرگودھا یونیورسٹی کیمپس کے سی ای او میاں جاوید کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی وڈیو منظر عام پر آ گئی،اس وقت کس حال میں تھے؟ہتھکڑیاں تھیں یا نہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سرگودھا یونیورسٹی کیمپس کے سی ای او میاں جاوید کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی وڈیو منظر عام پر آ گئی ہے، اس وڈیو میں 1122 کی ایمبولینس کو جیل کے مین گیٹ سے داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے،ایک نجی ٹی وی چینل وڈیو سامنے لے آیا، پروفیسر میاں جاوید کو سٹریچر پر لایا گیا اور اس موقع پر ایک شخص میاں جاوید کی حرکت قلب چلانے کے لیے سی پی آر کر رہا ہے،

اس وڈیو میں میاں جاوید کے ہاتھوں میں کوئی ہتھکڑی بھی نظر نہیں آ رہی ہے، اس وڈیو کے مطابق میاں اجوید کو 2 بج کر 14 منٹ پر باہر لایا گیا اور 2 بج کر 19 منٹ پر ایمبولینس کے ذریعے روانہ کیا گیا، جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں جاوید کیمپ جیل میں ہی انتقال کر گئے تھے۔ دوسری جانب ایک خبر رساں ادارے کے مطابق سرگودھا یونیورسٹی کیمپس کے سی ای او میاں جاوید کی ہتھکڑی پہنے وفات کی ذمہ داری نیب، جیل اور اسپتال حکام ایک دوسرے پر ڈالنے لگے۔نیب کی جانب سے اس سلسلے میں ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میاں جاوید کو عدالت نے 2 ماہ قبل صحت مند حالت میں جیل بھجوایا تھا، ان کے انتقال میں نیب کا کوئی کردار نہیں، اس حوالے سے میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہیں۔نیب اعلامیے کے مطابق میاں جاوید جیل میں تھے اور ان کی وفات جیل کسٹڈی میں سروسز اسپتال لاہور میں ہوئی۔نیب کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب نے کسی بھی ملزم کو ہتھکڑی نہ لگانے کی سختی سے ہدایت کی تھی اور اس پر قانون کے مطابق عمل کیا جارہا ہے، نیب کی وضاحت کے باوجود پروپیگنڈا نیب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔دوسری جانب جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میاں جاوید کو زندہ حالت میں اسپتال روانہ کیا گیا جب کہ پولیس چوکی انچارج سروسز اسپتال کے مطابق میاں جاوید کو اسپتال لایا گیا تو وہ فوت ہوچکے تھے اور ہتھکڑیاں کھولنے کے لیے کافی دیر پولیس اہلکاروں کو ڈھونڈتے رہے۔

علاوہ ازیں میاں جاوید کے معاملے پر ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن ملک مبشر نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔رپورٹ کے مطابق جیل حکام نیمیاں جاوید کو بغیر ہتھکڑی پولیس کے حوالے کیا، پولیس اہلکار اعظم، عمران اور خلیل نے اسپتال میں ہتھکڑی لگائی، جاوید کو پولیس کی ہتھکڑیاں لگی ہیں، جیل حکام کے پاس ہتھکڑیاں نہیں ہیں، ریسکیو حکام نے بھی کہا کہ جیل سے میاں جاوید کو بغیر ہتھکڑی لایا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اہلکار اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ حکم اور ایس او پی ہے کہ مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر ہتھکڑی نہیں اتاری جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…