جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

امن سب کے مفاد میں ،دوستی کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، آرمی چیف نے دبنگ اعلان کرتے ہوئے دشمنوں کو خبر دار کردیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی (اے این این)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ امن ہی سب کے مفاد میں ہے، دوستی کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، جنگوں سے تباہی اور نقصان ہوتاہے، مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحدراستہ ہیں، نئی نسل کو آگے بڑھنا اور پھلنا پھولناہے۔پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈسے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی نے جنگوں کی ہیئت تبدیل کر دی۔

جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنیوالی قوموں کی جنگی صلاحیتیں بہتر ہوگئیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں موجود امن بہت بھاری قیمت چکا کر حاصل کیا گیاہے، ہماری مسلح افواج،لا انفورسمنٹ ایجنسیزنے امن و امان کی بحالی کے لئے بہت بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں اور اپنے خون سے قیمت چکائی ہے، جنگیں عوام کیلئے موت، تباہی اور مصائب لاتی ہیں،نقصان ہوتا ہے ، تمام مسائل بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں،ہم نے مشرقی و مغربی سرحدوں پر بہت سے تنازعات دیکھے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ابھی باقی ہے، افغانستان میں مستقل امن کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن سب کے مفاد میں ہے، وقت آگیا ہے بھوک، بیماری اور جہالت کیخلاف لڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور امن پر یقین رکھتا ہے ۔اس سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا۔ نیول اکیڈمی کراچی میں 110 ویں مڈشپ مین اور 19 ویں شارٹ سروس کورس کی پاسنگ آٹ پریڈ کی تقریب میں شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات تقسیم کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…