اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

داسو ہائیڈرو پاور منصوبہ، زمین کی فراہمی کیلئے مالکان کاایسا ناقابل یقین اعلان کہ آپ کو یقین نہیں آئیگا،بیان حلفی بھی جمع کرادیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور/اسلام آباد(اے این این) عالمی بینک کی جانب سے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کیلئے فراہم کی گئی رقم کے استعمال کی معینہ مدت میں ایک مرتبہ پھر توسیع کرنے کے بعد حکومت کافی حد تک زمین مالکان کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے تا کہ وہ تعمیراتی کام کے آغاز کے لیے اپنی زمینوں سے دستبردار ہوجائیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق منصوبے کے ساتھ وابستہ اعلی سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ زیادہ تر زمینداروں نے کمشنر ہزارہ ڈویژن کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے پاس بیانِ حلفی جمع کروادیے ہیں.

بیان حلفی کے مطابق زمین مالکان ادا کیے جانے والے معاوضوں میں اضافے اور زمین کی حیثیت میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے علاقے کوہستان میں تربیلا ڈیم سے پہلے 2 سو 40 کلومیٹر پر 4 ہزار 3 سو 20 میگاوٹ بجلی کے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے عالمی بینک فنڈز فراہم کررہا ہے۔یہ بات مد نظر رہے کہ عالمی بینک نے فنڈز کی منظوری 2014 میں دے دی تھی اس کے بعد سے منصوبے کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں، خاص کر زمین کے حصول میں دشواریوں کے سبب ان فنڈز کے استعمال کرنے کی معینہ مدت میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی۔حالیہ کوششوں میں کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی ٹیم نے زمین کے مالکان کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں، جس میں اکثریت نے اپنے بیان حلفی جمع کروادیے۔حکام کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مرتب کردہ ایک جامع رپورٹ اسٹیرنگ کمیٹی کو ارسال کی جائے گی جو اسے حتمی طور پر وفاقی حکومت کے سامنے پیش کرے گی، جس کے بعد یہ وفاقی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ مطالبات تسلیم کرے اور اس ضمن میں فنڈز کی منظوری اور اجرا کرے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے جیسا کہ ٹیم متعدد مالکان کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی، آپ کہہ سکتے ہیں کہ زمین کے حصول میں مثبت اقدام دیکھنے میں آئے ۔اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے واٹر اینڈپاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس پورے منصوبے کے لیے 9 ہزار 8 سو 75 ایکڑ زمین کی ضرورت ہے جس میں ایک ہزار 9 سو 87 ایکڑ تعمیراتی کام اور ایک کالونی کے قیام جبکہ بقیہ 7 ہزار 8 سو 88 ایکڑ پانی کے ذخیرے اور دیگر مقاصد کے لیے درکار ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار 9 سو 87 ایکڑ میں سے 7 سو 40 ایکڑ زمین گزشتہ برس حاصل کرلی گئی تھی اور اس معاملے کو حل کرنے میں کمیٹی نے بھرپور کردار ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…