اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

حکومت 100 دنوں میں غیر مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو اس کی واحد وجہ کیا ہے؟ حکومت اپنی زبان کے بنے جال میں پھنستی چلی جا رہی ہے، حکومت کے سو دن‘ قوم نے کیا پایا؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

زبان جسم کا واحد عضو ہے جس میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن یہ آپ کی ساری ہڈیاں تڑوا سکتی ہے‘ بزرگ صدیوں سے نوجوانوں کو بتاتے آ رہے ہیں پہلے بار بار تولو اور پھر بولو اور جو انسان اپنی زبان‘ اپنے لفظوں پر قابو نہیں پا سکتا وہ دنیا میں کسی کو کنٹرول نہیں کر سکتا وغیرہ وغیرہ اور مجھے محسوس ہوتا ہے ہماری موجودہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی اپنی زبان ہے‘ حکومت کے سو دن پورے ہو چکے ہیں‘حکومت 29 نومبر کو ان سو دنوں کی تکمیل پر کنونشن سنٹر میں جشن منائے گی

لیکن آپ اس جشن سے پہلے ملاحظہ کیجئے حکومت نے سو دنوں کیلئے کون کون سے گول طے کئے تھے، یہ عمران خان کے اپنے وعدے ہیں‘ یہ درست ہے پچھلے سو دنوں میں سول اور ملٹری ریلیشن شپ ٹھیک رہے‘ ٹرمپ ہوں یا مودی ہوں وزیراعظم فارن پالیسی میں ایکٹو بھی رہے‘ تجاوزات کے خلاف دھڑا دھڑ آپریشن بھی ہوئے‘ سٹیزن پورٹل بھی بنا‘ کفایت شعاری بھی ہوئی اور کرپشن کے خلاف حکومت کے بیانیے میں بھی تسلسل رہا لیکن سوال یہ ہے حکومت نے مہنگائی‘ بے روزگاری‘ لالیس نیس‘ بیورو کریسی میں اصلاحات اور معاشی بہتری کیلئے کیا کیا‘کیا یہ حقیقت نہیں سو دنوں میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا‘ قرضے بھی بڑھے‘ بے روزگاری اور مس گورننس میں بھی اضافہ ہوا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار سو دنوں میں پارلیمنٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہوا اور پنجاب اور وفاق کی اسمبلیوں میں سٹینڈنگ کمیٹیاں تک نہیں بن سکیں چنانچہ میں آج کہنے پر مجبور ہوں عمران خان کو کسی اور شخص‘ کسی اور پارٹی کا چیلنج درپیش نہیں‘ یہ اور ان کے وعدے خود ان کیلئے چیلنج ہیں‘ یہ اپنے خود دشمن ہیں‘ آپ اگر کر نہیں سکتے تھے تو آپ نے کہا کیوں تھا اور آپ مسلسل کہہ کیوں رہے ہیں چنانچہ حکومت اگر سو دنوں میں غیر مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے تو اس کی واحد وجہ یہ خود ان کی زبان اور ان کے وعدے ہیں‘ حکومت اپنی زبان کے بنے جال میں پھنستی چلی جا رہی ہے اور یہ پھنستی چلی جائے گی چنانچہ حکومت کو باہر نہیں اپنے اوپر توجہ دینی چاہیے۔حکومت کے سو دن‘ قوم نے کیا پایا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…