اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’اپناغصہ گھرچھوڑکرآئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے،عدالت کے نہیں‘‘ غصے سے بولنے پر چیف جسٹس شدید برہم ہو گئے ، بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) سپر یم کورٹ رجسٹری برانچ لاہور میں غصہ سے بولنے پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری پر سخت اظہار برہمی‘ زلفی بخاری کی تمام تفصیلات، تقرر کا عمل اور اہلیت کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اپناغصہ گھرچھوڑکرآئیں، آپ کسی اور کے دوست ہوں گے،عدالت کے نہیں‘ دوستی پرمعاملات نہیں چلیں گے

اور وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے انہیں بے لگام اختیار نہیں‘ اہم عہدوں پرتقرر قومی فریضہ ہے‘وزیراپنی من اورمنشاکے مطابق معاملات نہیں چلائے گا،ہم طے کرینگے کہ معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں یانہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں زلفی بخاری کی وزیراعظم کے معاون خصوصی تقرری کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ملکی اہم عہدوں پر تقرر کرنا اہم قومی فریضہ ہے، دوستی پر یہ معاملات نہیں چلیں گے، قومی مفاد پر چلیں گے جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں زلفی بخاری کے رویئے پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اپنا غصہ گھر چھوڑ کر آئیں آپ کسی اور کے دوست ہوں گے، آپ سپریم کورٹ کے دوست نہیںچیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل زلفی بخاری کو ان کے رویئے کے بارے میں آگاہ کریںاس موقع پر زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے موقف اپنایا کہ معاون خصوصی کا تقرر کرنا وزیراعظم کا اختیار ہے زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، زلفی بخاری کاتقرررولزآف بزنس کے تحت ہوا، زلفی بخاری کابینہ کے رکن نہیں ہیں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کو بے لگام اختیارات نہیں ہیں، وزیراعظم عوام کا ٹرسٹی ہے، وزیر اپنی من اور منشا کے مطابق معاملات نہیں چلائے گا، ہم طے کریں گیکہ معاملات آئین کے تحت چل رہے ہیں کہ نہیںجسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اعلی عہدوں پر اقربا پروری نظر نہیں آنی چاہیے اور نہ ہی بندر بانٹ ہو، زلفی بخاری کو کس اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا گیا؟ کس کے کہنے پر سمری تیار ہوئی؟اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیراعظم تو باراک اوباما سے بھی مشورہ کرسکتے ہیں، اور زلفی بخاری کو آئینی عہدہ نہیں دیا گیا، ان کا تقرر رولز آف بزنس کے تحت کیا گیا، زلفی کابینہ کے رکن نہیں، اوورسیز پاکستانی کے لیے دہری شہریت کے حامل فرد کو ہی عہدہ ملنا چاہیے، ایسے شخص کے پاس برطانیہ اور پاکستان کا ویزا ہو تو آسانی رہتی ہے اعتزاز احسن کے دلائل پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اہم نوعیت کا کیس ہے بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…