اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’11 ہزار پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جائے ‘‘ خلیجی ممالک میں قید پاکستانیوں کے رشتہ داروں کی عمران خان سے اپیل ، سعودی عرب کے ساتھ بھی معاملہ اٹھانے کا مطالبہ

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)جی سی سی ممالک میں قید پاکستانیوں کے خاندانوں نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ 11 ہزار پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لائیں ۔ متاثرہ خاندانوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ان قیدیوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا لیکن عمران خان کے پہلے قوم کے خطاب میں انہوں نے تارکین وطن پاکستانیوں کے حقوق کی بات کی

جس سے انہیں یہ امید ملی ہے کہ ان کے پیارے ضرور وطن واپس آئیں گے ۔ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیچہ وطنی سے آئی عاصمہ شفیع ، جس کا بھائی 9 سال سے سعودی عرب قید میں ہے ، نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور ہنگامی بنیادوں پر قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ عمل میں لائے ۔ یہ تمام خاندان جن کے عزیز و اقارب جی سی سی ممالک میں قید ہیں ، مردان ، مظفر آباد ، پشاور اور دیگر شہروں سے آئے تھے ۔ان خاندانوں نے عمران خان کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں پھانسی کے منتظر قیدیوں کی پھانسی روکنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں کو پھانسی دینے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے گزشتہ مہینے 8 پاکستانیوں کو پھانسی دی گئی ہے ۔ ان خاندانوں نے کہا کہ ان کے یہ عزیز و اقارب ان کے لئے دلی ور مالیاتی سپورٹ کے ستون ہیں انہوں نے ریاست پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائیں اور ان کے عزیز و اقارب کو واپس لائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…