اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

فضل الرحمن ،مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ میں کیوں شریک نہ ہوئے؟دونوں کا آپس میں کیا تعلق تھا؟مولانا سمیع الحق کے بھتیجے نے اندر کی باتیں بتا دیں ،اہم انکشافات

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا سمیع الحق کے بھتجیے مولانا سلمان الحق حقانی نے  کہا ہے کہ میڈیا میں مولانا سمیع الحق کی انتہائی اندوہناک شہادت اورمولانا فضل الرحمن کے جنازے میں شرکت نہ کرنے پر بے بنیاد اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ،چینلز پر کہا گیا کہ مولانا سمیع الحق کے بیٹوں نے مولانا فضل الرحمن کو جنازے میں شرکت سے روک دیا تھا۔

ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن جنازے میں آنا بھی چاہتے تو ہم انہیں روک دیتے کیونکہ ہم نے ایک عظیم ہستی سے تو ہاتھ دھو لیا ہے تو پھر دوسری عظیم ہستی سے ہم ہاتھ کیوں دھوئیں۔ اگر وہ آنا چاہتے بھی تو ہم انہیں بالکل نہ آنے دیتے۔ مولانا فضل الرحمن نہ صرف ملک و قوم بلکہ جامعہ حقانیہ ، ہمارے خاندان اور حقانی برادری کا قابل فخر سرمایہ ہیں ،ہم ان کو بالکل بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے، ان سے ناراضگی والی کوئی بات نہ ہمارے خاندان ،نہ جامعہ حقانیہ اور نہ ہی کسی اور کے ساتھ ہے، ہم بھی نہیں چاہیں گے کہ ایک رسم و رواج کی وجہ سے اہل اسلام کی کسی عظیم شخصیت کو کسی قسم کا نقصان ہو۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے والد کا نکاح مولانا مفتی محمودنے پڑھایا تھا اور ہمارے خاندان کے ساتھ ان کا اتنا گہرا اور قریبی تعلق تھا کہ وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی انہوں نے شادی کے موقع پر رات بھی دریا کے کنارے ہمارے گھر والوں کے ساتھ گزاری تھی ،مولانا فضل الرحمن کا ہمارے خاندان ،جامعہ حقانیہ اور ہمارے بڑوں پر اتنا حق ہے جتنا ہم چھوٹوں کا بھی نہیں ہے،اگر یہ بات کہی جاتی کہ مولانا فضل الرحمن نے راشد الحق ،حامد الحق یا سلمان الحق کو منع کر دیا ہے کہ وہ مولانا سمیع الحق کا جنازہ نہ پڑھائیں میں پڑھائوں گا تو یہ بات درست ہو سکتی تھی کیونکہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ مولانا سمیع الحق کے بیٹوں اور جامعہ حقانیہ کو کوئی بھی بات حکماً کہہ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ رات مولانا فضل الرحمن جامعہ حقانیہ آئے اور ہم نے ہی انہیں کہا تھا کہ وہ ایسے وقت  تشریف لائیں جب کوئی انہیں کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کوئی انہیں تنگ نہ کر سکے ،مولانا سمیع الحق کی وفات سے جتنا صدمہ ان کو پہنچا ہے اور ان کی موت سے جتنا وہ ٹوٹ گئے ہیں اس سے پہلے میں نے انہیں اتنا ٹوٹا ہو ا کبھی نہیں دیکھا ۔

وہ رات عشا کے بعد ہمارے گھر آئے تو ہمارے گلے لگ کر جس طرح وہ روئے اور اپنے دل کا غم ایسے دکھایا جیسے کوئی بھائی اپنے بھائی کو دکھاتا ہے یا جیسے کوئی چچا اپنے بھتیجوں کو دکھاتا ہے ،اگر ایک آدمی کو اللہ نے عزت دی ہوئی ہے تو ساتھ میں دنیاوی مسائل بھی ہیں ہمیں ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔انہوں نے اللہ کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ میری ٹی وی چینلز اور میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ اس حوالے سے لوگوں میں غلط فہمیاں پھیلانے اور انہیں گمراہ کرنا چھوڑ دیں ،دریں اثنا مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں ،وزیر مملکت داخلہ نے کہا ہے کہ جلد ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…