پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

مجھے آج تک نہ کوئی بلیک میل کرسکا ہے نہ کرسکے گا،کنٹینر ہم دینگے یہ کام کرکے دکھادو،عمران خان کا شہبازشریف اورمولانافضل الرحمان کو چیلنج،بہت بڑی پیشکش کردی

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قومی اسمبلی سے بطور وزیراعظم اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ ہم نے چار مہینے سڑکوں پر دھرنا دیا شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان ایک مہینہ گزار کر دکھادیں، ہم مان جائیں گے، انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا شور مچانے والے سن لیں انتخابی عمل کو ایسا شفاف بنائیں گے کہ آئندہ کوئی دھاندلی کا نام نہیں لے گا، انہوں نے کہا کہ جتنا مرضی شور مچالیں،

دھرنا دینا ہے تو کنٹینر ہم دیں گے مجھے آج تک نہ کوئی بلیک میل کرسکا ہے نہ کرسکے گا،کرپشن کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا، انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پیسہ چوری کیا اور باہر لے کر گئے میں انشاء اللہ ایک ایک آدمی کا احتساب کروں گا میں جدوجہد کرکے یہاں پہنچا ہوں میں اپنے بل پر یہاں پہنچاہوں نہ میرے والد کوئی سیاسی شخصیت تھے اور نہ ہی میں سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا تھا نہ ہی مجھے کسی ڈکٹیٹر نے پالا انہوں نے کہا کہ میرے ہیرو قائد اعظم محمد علی جناح تھے ،میرا وعدہ ہے اپنی قوم سے جو لوگ پاکستان کاپیسہ لوٹ کر باہر لے کر گئے ہیں ہم وہ پیسہ واپس لائیں گے میں ہر مہینے خود دو دفعہ پرائم منسٹر کوئسچن ٹائم میں یہاں سوالات کے جواب دوں گا، انہوں نے کہا کہ اس ملک پر جو قرضہ چڑھایا گیا اٹھائیس ہزار ارب روپے کا جو لوگ ہمارے بچوں کو مقروض کرنے کے ذمہ دار ہیں ان سے جواب لیں گے کہ یہ قرضہ کیسے چڑھا جو پیسہ ہمارے بچوں کی تعلیم پر لگنا چاہئے تھا ہسپتالوں میں لگنا چاہئے تھا صاف پانی کے لئے لگنا چاہئے تھا جو پیسہ اس ملک میں لوگوں کی تعلیم پر خرچ ہونا چاہئے تھا وہ لوگوں کی جیبوں میں کیسے گیا انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں فیصلے کریں گے کہ ہم نے کیا کرنا ہے ۔ اس ملک میں ایک ایسا نظام بنائیں گے کہ ہم اسی قوم سے پیسہ اکٹھاکریں گے تاکہ ہمیں کسی کے سامنے جھکنا نہ پڑے انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ آج میں نوجوانوں کی وجہ سے یہاں کھڑا ہوں نہ نوجوان باہر نکلتے اور نہ ہی ہم یہاں پہنچتے

میں ا ن کا شکر گزارہوں میں پوری کوشش کروں گا کہ نوجوانوں کا مستقبل محفوظ ہو اور اسی ملک میں ان کو نوکریاں ملیں انہوں نے کہا کہ دھاندلی کا شور مچانے والوں سے میں سوال پوچھتاہوں جب 2013ء کے الیکشن کے بعد میں صرف چار حلقے مانگ رہاتھا کہ چار حلقے کھول دو تاکہ پتہ چلے کہ کیا غلطی ہوئی ان شور مچانے والوں نے چار حلقے نہیں کھولے ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا ، چار حلقے کھلوائے اور چاروں حلقوں میں بے ضابطگیاں نکلیں چاروں حلقوں میں ، ان لوگوں نے کیوں نہیں احتساب کیا، انہوں نے کیوں نہیں پتہ لگایا کہ بے ضابطگیاں کس نے کیں؟ اگر یہ لوگ پتہ چلا لیتے تو آج تمام لوگوں کا الیکشن پراسیس پر اعتبار ہوتا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…