جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم پنجاب کوسرسبز وشاداب ،سندھ بنجر اور پختونخوا ڈبونے کا منصوبہ،کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کر سکتا،اسفندیا ر ولی نے کیس کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس کو بھی تنبیہ کرتے ہوئے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 6  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ وطن عزیز میں پنجاب اپنی بادشاہی اور دوسرے قوموں کو غلام بنانے کے درپے ہیں۔ کوئی مائی کا لعل کالا باغ ڈیم تعمیر نہیں کر سکتا ۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیلئے بعض بد بخت سپریم کورٹ گئے ہیں مگر میں چیف جسٹس پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تمام سٹیک ہولڈر ز کو بٹھا کر ڈیم کے نقصانات اور افادیت سے آگاہی حاصل کریں۔ کالا باغ ڈیم در اصل پنجاب کو

سرسبز وشاداب ،سندھ کو بنجر اور پختونخوا کو ڈبونے کا منصوبہ ہے ۔ وہ چارسدہ میں اے این پی کے انتخابی مہم کے آغاز کے حوالے سے ضلعی صدر بیرسٹر ارشد عبدا للہ کی طرف سے افطارڈنر کے موقع پر ورکرز کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر این اے 24کے پارٹی ذمہ داران اور عہدیداروں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ اسفندیار ولی خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ جنر ل مشرف پر واضح کیا تھا کہ کالا باغ ڈیم اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے مگر ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی باتیں ہو رہی ہے مگر میں واضح الفاظ میں بتانا چاہتا ہوں کہ کوئی مائی کا لعل کا لا باغ ڈیم تعمیر نہیں کر سکتا کیونکہ یہ منصوبہ پختونوں کو ڈبونے اور سندھ کو بنجر جبکہ پنجاب کو سر سبز و شاداب کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پنجاب کے محصوص سوچ کے لوگ وطن عزیز پر پنجاب کی بادشاہی اور دوسرے قوموں کو غلام بنانے کے درپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دیگر صوبے بھی وفاق کے اکائی ہیں مگر پنجاب کو بالادست بنایا جا رہا ہے ۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وہ پنجاب کے خلاف نہیں مگر پختونوں اور سندھیوں کی تباہی و بر بادی کی قیمت پر پنجاب کی ہریالی ہم کسی صورت بر داشت نہیں کر سکتے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کالا باغ

ڈیم کے حوالے سے کیس کی سماعت کر رہے ہیں مگر میں ان پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم کے نقصانات اور فوائد سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے تمام صوبوں اور سٹیک ہولڈرز کو بٹھا دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سوال اٹھایا کہ کالا باغ ڈیم کی بجائے بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم کی تعمیر پر کیوں خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔ ۔اگر حکومت واقعی ڈیم بنانے میں مخلص ہے تو بھاشا ڈیم اور منڈا ڈیم کی تعمیر پر کام شروع کریں۔2013 کے الیکشن میں دیگر جماعتیں انتخابی مہم جبکہ ہم جناز ے اٹھا رہے تھے ۔ 2018 کے انتخابات میں ہمارا مقابلہ سیاسی جماعتوں سے نہیں حکومتوں سے ہے۔حکومت ختم ہوتی اتحادیوں نے ایک دوسرے پرالزامات لگانا شروع کر دئیے ہیں ۔اسفندیارولی خان نے کہا کہ اس بار خیبر پختونخوا کے ساتھ بلو چستان میں بھی اے این پی نمایاں کامیابی حاصل کریگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…