عمران خان کی دونمبری سامنے آگئی ، تحریک انصاف پر پابندی؟ امریکہ ، کینیڈا، یو اے ای سمیت کئی ممالک میں غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ نکلی، تمام ثبوت مل گئے،عام انتخابات سے قبل کپتان کیلئے پریشان کن خبر آگئی

  پیر‬‮ 19 مارچ‬‮ 2018  |  15:28

اسلام آباد ( آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ ہمارے پاس پی ٹی آئی میں فارن فنڈنگ کے تمام ثبوت موجود ہیں،امریکہ ،کینیڈ ا ،مڈل ایسٹ اور یو اے ای سمیت کئی ممالک میں پی ٹی آئی غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے، ،عمران خان خود کہتے ہیں ان کی پارٹی کے سترہ ارکان اسمبلی بک گئے ،پرویز خٹک کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانےکا لالی پاپ دیا گیا ہے ،عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہی۔پیر کو الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے


اکبر ایس بابر نے کہا کہ ٓاج الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کی سکروٹنی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا ،الیکشن کمیشن نے تین رکنی کمیٹی قائم کی تھی ،آج پہلا باقاعدہ اجلاس نہ ہو سکا ،دو ممبران نے کمیٹی کا حصہ بننے سے معزرت کر لی ،نئی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ستائیس مارچ کو ہو گا ، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پی ٹی آئی میں فارن فنڈنگ کے تمام ثبوت موجود ہیں ،آج ہم نئے شواہد بھی ساتھ لائے ،امریکہ ،کینیڈ ا ،مڈل ایسٹ اور یو اے ای سمیت کئی ممالک میں پی ٹی آئی غیر قانونی طور پر رجسٹرڈ ہے ،آج یہ عندیہ ہمیں دیا گیا ہے کہ ستائیس تاریخ کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ہیئرنگ ہو گی ، انہوں نے کہا کہ سوا تین سال بعد یہ معاملہ اب منطقی انجام کو پہنچنے جا رہا ہے ،عمران خان خود کہتے ہیں ان کی پارٹی کے سترہ ارکان اسمبلی بک گئے،پرویز خٹک کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا لالی پاپ دیا گیا ہے ،عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔واضح رہے کہ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل ہیں اور تحریک انصاف کی پالیسی پر اختلاف کی وجہ سے عمران خان سے الگ ہو گئے تھے اور گزشتہ دو ڈھائی سال سے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے سرگرم ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎