ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف چوہدری نثار سے کیوں ناراض ہیں؟کل رات سردارایاز صادق،شہبازشریف اور سعد رفیق کیا کرتے رہے؟شہبازشریف کے صدر بننے کے بعد اب ن لیگ کی پالیسی کیا ہوگی؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

آج پاکستان مسلم لیگ ن نے میاں نواز شریف کو پارٹی کا تاحیات قائد اور میاں شہباز شریف کو قائم مقام پارٹی صدر بنا دیا‘ یہ آج کی سب سے بڑی خبر تھی لیکن اس سے بھی بڑی خبر پارٹی کے سینئر ترین لیڈر اور شریف برادران کے قریبی ساتھی چودھری نثار کو مرکزی مجلس عاملہ میں شرکت کی دعوت نہ دینا ہے‘ میاں نواز شریف چودھری نثار کے اس نوعیت کے اعتراضات پر ان سے ناراض ہیں جن میں چودھری نثار نے سرعام ان کے بیانیے کی مخالفت کی تھی،

میاں شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق دیر تک میاں نواز شریف کو منانے کی کوشش کرتے رہے لیکن میاں صاحب نے چودھری نثار کو بلانے سے انکار کر دیا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں‘ یہ زیادتی ہے‘ اگر جمہوری جماعتیں بھی اپنے سینئر ترین رکن کو اختلاف رائے کا حق نہیں دیں گی تو پھر یہ جمہوری جماعتیں کیسے ہوئیں‘ پھر ان میں اور آمریت میں کیا فرق ہوا‘ جمہوریت اختلاف رائے اور برداشت کا نام ہوتا ہے لیکن آپ اگر اپنے قریبی اور سینئر ترین ساتھی کے اختلاف کو بھی برداشت کرنے‘ آپ اگر اس کی رائے سننے کیلئے تیار نہیں ہیں تو پھر آپ کیسے جمہوری لیڈر ہیں‘ آپ اگر مشاہد حسین سید کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں بلا سکتے ہیں جو 18 سال آپ کے مخالف رہے‘ جو آپ کو ان سیکور پرسنیلٹی کہتے تھے اور جو آپ کو مشکل میں چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کے ٹرک پر چڑھ گئے تھے تو آپ کو آج اس چودھری نثار کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے تھا جو 35 سال تک آپ کے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑے رہے اور جن کو آپ کے صرف اس قسم کے غیر جمہوری رویوں پر اعتراض تھا۔ یہ زیادتی ہے اور آپ کو بھی اپنے یہ رویئے تبدیل کرنا ہوں گے۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، میاں شہباز شریف پارٹی کے نئے صدر بن چکے ہیں‘ یہ صرف صدارت کی تبدیلی ہے یا پھر اس تبدیلی کے ساتھ ہی پارٹی کا بیانیہ بھی تبدیل ہو جائے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج میاں شہباز شریف نے پتوکی میں جو اعلان کیا، کیا یہ کمیشن بننا چاہیے‘ آج چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے، خدا کی قسم میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں‘ سیاسی مقدمات کو ہاتھ لگانے کا بھی دل نہیں کرتا‘ صرف چاہتا ہوں لوگوں کو بنیادی حقوق دیئے جائیں‘ کیا میاں نواز شریف کو چیف جسٹس کی قسم پر بھی اعتبار نہیں‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…