بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

نوازشریف نے سینٹ کے ٹکٹ دینے کے بدلے میں امیرلوگوں سے کیا چیز مانگ لی،(ن) لیگ کے سینئر رہنما کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) عام انتخابات میں پارٹی رہنما کے انتخاب اور سینیٹ الیکشن کے لیے امیدوار کی نامزدگی پر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے طریقہ کار پر کارکنوں نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں نے سینیٹ انتخابات کیلیے منظور نظر امیدواروں کو حتمی تاریخ سے 3 ہفتے قبل ہی دوہری شہریت سے دستبردار ہونے کا اشارہ ے دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن نے الزام عائد کیا کہ قیادت نے صرف ان امیر لوگوں کو ٹکٹ دیئے جو پارٹی رہنماؤں کے انتخابی اور ان کے بیرونی دوروں کے اخراجات اٹھا سکیں۔ایک ذمہ دار رکن نے کہا کہ رانا مقبول، ہارون اختر اور مشاہد حسین سید پارٹی کی بنیادی رکنیت کے تقاضے پورے نہیں کرتے اور ہارون اختر اور مشاہد حسین کو ٹکٹ دے کر پارٹی نے ان کارکن کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے جنہوں نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں زخم کھائے۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین راجا ظفرالحق اور سیکریٹری اطلاعات مشاہداللہ خان نے کہا کہ امیدوار کی قیادت سے وابستگی اور پارٹی کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر سینیٹ ٹکٹ دیے ہیں۔مشاہد اللہ نے اس رویہ کو مسترد کیا کہ پارٹی نے پہلے ہی سینیٹ نشستوں کے لیے ناموں کا انتخاب کرلیا تھا۔سیکریٹری اطلاعات نے وصاحت پیش کی کہ لندن میں 2007 میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنہوں نے پارٹی کو دھوکا دیا لیکن قیادت کے خلاف ہرزاسرائی نہیں کی ان کی پارٹی میں دوبارہ شمولیت کا خیر مقدم کیاجائیگا تاہم اس تناظر میں ہارون اختر اور مشاہدحسین ضرور پرویز مشرف کے دور میں ان کے ساتھ رہے لیکن انہوں نے پارٹی اور پارٹی قیادت کے خلاف کچھ نہیں کہا۔

سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ماضی کے برخلاف اس مرتبہ امیدواروں کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ انتخابات کے لیے امیدواروں کو اپنی درخواستیں 6 فروری تک مع ناقابل واپسی 50 ہزار روپے زیر ضمانت جمع کرانے کی ہدایت دی تھی جبکہ صرف پنجاب سے 110 سے زائد درخواستیں وصول ہوئیں تاہم یہ خیال کیا جارہا کہ پنجاب سے تمام 12 نسشتوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار منتخب ہوں گے۔

خیال رہے کہ ماضی کے برعکس مسلم لیگ (ن) نے پارلیمانی بورڈ کی تشکیل اور امیدواروں کے انٹرویو کے لیے باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔دوسری جانب پارٹی رہنماؤں کا دعوی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے 6 فروری کو اپنی رہائش گاہ میں غیر رسمی میٹنگ کے دوران پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ بورڈ اراکین کو امیدواروں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی جو ماضی کی روایت کے برخلاف رہی۔

نوازشریف نے لاہور میں اپنے بھائی شہباز شریف، بیٹی مریم نواز، بھانجے حمزہ شہباز، سینیٹر پرویز رشید اور دیگر کے ہمراہ سینیٹ کی نسشتوں کے لیے امیدواروں کے حتمی فہرست تیار کی۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں سینیٹ ٹکٹ کے لیے سابق وزیرخزانہ اسحق ڈار، سابق پنجاب پولیس آئی جی رانا مقبول احمد خان، امریکا اور برطانیہ میں پارٹی کے آفیس کنندہ زبیرگل اور شاہین بٹ، نواز شریف کے ترجمان ڈاکٹر آصف کرمانی، سابق سینیٹر ہارون اختر، صنعت کار فاروق خان اور حفیظ عبدالکریم، جمیعت الحدیث کے رہنما اور ڈیرہ غازی خان سے ایم این اے کو منتخب کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…