ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

امریکا کا پاکستان سے طالبان رہنماؤں کو گرفتار یا ملک بدر کرنے کا مطالبہ

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(آن لائن)کابل کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر طالبان کے حملے کے بعد امریکا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے شدت پسندوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔افغانستان کے دارالحکومت میں ہفتے کو دہشت گردوں نے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر دھاوا بول دیا تھا اور افغان سیکیورٹی فورسز کو ہوٹل کی عمارت پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کو مارنے میں 12 گھنٹے تک جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

پاکستان نے اس دہشت گرد حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں ضائع ہونے والی قیمتی انسانی جانوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا تھا۔اس معاملے پر افغانستان کے چند حلقوں نے حسب عادت ایک مرتبہ پھر پاکستان کو حملے کا ذمے دار قرار دینے کی کوشش کی لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان حملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔تاہم اس حملے کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات پر ایک مرتبہ پھر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کردیا۔امریکی صدر کی ترجمان سارہ سینڈرز نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر حملے سے امریکا کا اپنے اتحادی افغانستان کے ساتھ کام کرنے کا عزم مزید پختہ ہو گا۔انہوں نے حملے کے وقت افغان فورسز کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مدد سے افغان فورسز دہشت گردوں کے خلاف تعاقب کا عمل جاری رکھیں گے جو دنیا کے دیگر ملکوں میں دہشت گردی پھیلانا چاہتے ہیں۔سارہ سینڈرز نے کہا کہ ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں۔

کہ وہ فورہ طور پر افغان رہنماؤں کو گرفتار یا ملک بدر کرے اور پاکستان کو مذکورہ گروپ کو حملوں کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال سے روکنا ہو گا۔حالیہ عرصے میں دہشگ گردی کے خلاف کارروائی کے لیے امریکا کے ‘ڈو مور’ مطالبات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔نئے سال کے پہلے دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر 33 ارب ڈالر کی امداد کے عوض صرف جھوٹ اور دھودکا دہی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں دہشت گردی کرنے والوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیے تھے اور چند دن بعد ہی پاکستان کی فوجی امداد بھی بند کردی تھی۔امریکی صدر کی اس ٹوئٹ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی جو تاحال برقرار ہے اور پاکستان نے موقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان میں امن کے قیام میں ناکامی پر امریکا، پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…