اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

فوج نے غلطی کردی،’’فیض آباد دھرنے‘‘ کا اصل مقصد کیاتھا؟اور اس کے پیچھے کون ہے؟ طلال چوہدری کے دھماکہ خیز دعوے،نیا تنازعہ کھڑا کردیا

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی )وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وردی والے افسر کو حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان سیاسی معاہدے کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا ، ایسا کرنے سے اداروں کی غیر جانبداری پر حرف آتا ہے اور ان کے متنازع ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے،کچھ قوتیں(ن)لیگ کو نقصان پہنچا کراس کا ووٹ توڑنا چاہتی ہیں ،دھرنے کا ہدف بھی وہی تھا جو سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے لیے چلائی گئی مہم کا تھا،

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فیض آباد پر تین ہفتوں سے جاری دھرنا ختم کروانے کے لیے وفاقی حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان تحریری معاہدے پر انٹر سروسز انٹیلی جنس سے تعلق رکھنے والے فوجی افسر میجر جنرل فیض حمید کے دستخط ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر مسلم لیگ کے رہنما نے کہا کہ دھرنا ختم کروانے کی حد تک تو یہ ٹھیک تھا لیکن طویل مدت میں اس کے اداروں کے لیے اثرات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ان سیاسی معاملات میں کبھی جھکنا پڑتا ہے کبھی ایک فریق سے بات کرنا ہوتی ہے۔ ایسے میں یونیفارم والے لوگوں کی موجودگی سے اداروں کی غیر جانبداری پر باتیں کی جا سکتی ہیں اور ان کے متنازع ہونے کا تاثر ابھرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام اداروں کو خاص طور پر جو یونیفارم پہنتے ہیں، چاہے ان کی وردی کا رنگ کوئی بھی ہو انھیں غیر جانبدار ہونا چاہیے اور تنازعات سے بچنا چاہیے، وہ اسی صورت میں زیادہ بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔سیاسی معاملات میں یا جہاں پر متنازع ہونے کا خدشہ ہو ان اداروں کو قانون کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون سے ہٹ کر جب کردار ادا کیا جاتا ہے تو پھر متنازع ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔تحریک لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کے اہداف اور پس پردہ مقاصد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اس دھرنے کا ہدف بھی وہی تھا جو سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے لیے چلائی گئی مہم کا تھا۔دونوں کا ہدف آئندہ عام انتخابات اور مسلم لیگ ن کا ووٹ ہے۔ اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے پہلے نواز شریف کونااہل کیاگیا۔ منصوبہ سازوں کا خیال یہ تھا شاید نااہلی سے اور اب اس دھرنے سے مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں کمی آ جائے گی۔ اس کے بعد یہ اب منصوبے کا اگلا حصہ ہے جس کے تحت مسلم لیگ ن کے بریلوی مکتبہ فکر کے ووٹروں کو پارٹی سے متنفر کرنا ہے لیکن یہ چال بھی ناکام ہو گی

۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہی لوگ اس دھرنے کی پشت پر ہیں جو حکومت کے مطابق نواز شریف کی نااہلی کے پیچھے تھے تو طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ایک ہی سوچ دونوں کے پیچھے کام کر رہی ہے۔وہی سوچ اس دھرنے کے بھی پیچھے ہے۔ ایسی قیادت وہ چاہتے ہیں جو کہ لیڈر نہ ہو۔ ایک سوچ اس ملک میں یہ سمجھتی ہے کہ لیڈر اور وزیراعظم ایسا کمبینیشن ہے جو اگر ایک شخصیت میں یکجا ہو جائیں تو پھر ان کی من مانی نہیں چلے گی، اندرونی سلامتی پر اور خارجہ پالیسی پر۔تاہم طلال چوہدری نے کہا کہ میڈیا کی وجہ سے لوگوں میں شعور آ گیا ہے اس لیے یہ چال بھی ناکام ہو گی۔لوگ دیکھ رہے ہیں کہ گالیاں دینے والے ان کے مذہبی رہنما نہیں ہو سکتے۔ یہ لوگ بریویلوی مکتبہ کے نمائندے ہونے کے دعویدار ہیں لیکن لوگ ان کی اصلیت سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ختم نبوت نہیں بلکہ ختم حکومت کا معاملہ تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…