اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں فوج آگئی ،آتے ہی پہلا کام کیا کیا،جس نے بھی دیکھا دیکھتا ہی رہ گیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کئے جانے کے بعد پاک فوج کے جوانوں نے اسلام آباد کے حساس مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا۔وفاقی دارالحکومت میں پاک فوج اور رینجرز کے دستوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کیا، اس موقع پر حالات مکمل طور پر پرامن رہے ،فیض آباد پل اور اطراف کا کنٹرول رینجرز کے کنٹرول میں ہے ، جبکہ بکتر بند گاڑیاں اور واٹر گنین بھی موقع پر موجود ہیں۔دریں اثنا اس سے

پہلے وفاقی حکومت کی طرف سے فوج طلب کرنے کے معاملے پر عسکری حکام نے وزارت داخلہ کو جواب ارسال کر دیا ہے۔جواب میں عسکری حکام کی جانب سے کہا گیا ہے پاک فوج تفویض کردہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے، سول حکومت کی مدد پاک فوج کی آئینی ذمہ داری ہے۔فوج کی تعیناتی سے پہلے عسکری حکام کی جانب سے حکومت سے تین نکات پر وضاحت مانگ لی گئی ہے۔عسکری حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی بھرپور اہلیت سے کام نہیں کیا، پولیس کے ساتھ رینجرز موجود تھی، لیکن رینجرز کو تحریریاحکامات کیوں نہیں دئیے گئے؟عسکری حکام نے یہ بھی کہا مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے روایتی طور پر فوج استعمال نہیں کی جاتی، ہنگامہ حل کرنے کے لیے فوج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ہنگامہ ختم کرنے کی خاطر فوج کی تعیناتی کے لیے ان معاملات کی وضاحت ضروری ہے۔فیض آباد دھرنا کی وجہ سے دارالحکومت اسلام آباد میں قیام امن کے لیے فوج طلب کرلی گئی، وزارت داخلہ نے فوج کی طلبی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فوج کو فوری طور پر تاحکم ثانی تعینات کیا جائے، فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کرے گی۔فوجی جوانوں کی تعداد کا تعین کمانڈر 111 بریگیڈ کریں گے،

فوج کی مناسب تعداد سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پورے اسلام آباد میں تعینات کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کیا، سمری چیف کمشنر اسلام آباد کی طرف سے وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔وزارت داخلہ کی بیوروکریسی کی عجلت کی وجہ سے نوٹیفکیشن میں بنیادی خامیاں پائی گئیں، نوٹیفکیشن میں سیریل نمبر 2013 کا درج ہے جبکہ اس میں ای سی او سمٹ کا ذکر بھی موجود ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…