پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پارلیمنٹ قانون سازی کا ادارہ ہے ٗارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں یا سیوریج نظام ٹھیک کرنا نہیں ٗسپریم کورٹ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا ادارہ ہے‘ ارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں یا سیوریج کا نظام ٹھیک کرنا نہیں۔

منگل کو سپریم کورٹ میں قوانین میں ترامیم کیلئے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل محمود نے کہا کہ قوانین میں مجوزہ ترامیم وزارتوں کو بھجوا دی تھیں، متعلقہ وزارتوں کی جانب سے ابھی تک جواب نہیں ملا، متعلقہ اداروں سے پیش رفت کی رپورٹ لینے کے لئے وقت لیا جائے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آٹھ سال ہوگئے لیکن سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ وقت گزاری کے لئے ایک کے بعد ایک رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کا ادارہ ہے ارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں یا سیوریج کا نظام ٹھیک کرنا نہیں عوامی نمائندے قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ آتے ہیں۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…