بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

نوازشریف کو سزا ہوئی تو صدر ممنون حسین سے کون سے کام کروایاجائیگا؟ ن لیگ نے حیرت انگیزفیصلہ کرلیا

datetime 23  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن میں تقسیم یا سابق وزیر اعظم نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا کی صورت میں قومی اسمبلی کو قبل از وقت تحلیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔نواز شریف ، اسحاق ڈار اور دیگر کو سزا کی صورت میں صدر ممنون حسین سے سزا معاف کروانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جیسے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اس وقت کے صدر آصف زرداری نے سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کی سزا معاف کی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ شریف فیملی کو ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم سے بچانے کے لئے ہی سابق وزیر اعظم نواز شریف آئندہ دو دنوں میں وطن واپس آ رہے ہیں تاہم اسی سے نوے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ایسے ہیں جو کہ مسلم لیگ ن کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور ان میں بعض اہم نام بھی شامل ہیں یہاں تک کہ بعض وزراء4 بھی مستعفی ہو کر نواز شریف کو سر پرائز دے سکتے ہیں اس تمام تر صورت حال میں شریف خاندان اور ان کے قریبی معاونین یہ غور کر رہے ہیں کہ چونکہ بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی کے مستعفی ہونے کی صورت میں ن لیگ کی ایوان سے اکثریت ختم ہو سکتی ہے تو ایسے میں نئے وزیرا عظم کا انتخاب کرنے کی بجائے قومی اسمبلی ہی تحلیل کئے جانے پر غور ہو رہا ہے اور اس کے لئے وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی سے یہ کام کروایا جائے گا جبکہ صدر ممنون حسین وزیر اعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرنے کے پابند ہونگے اس اقدام کا مقصد صوبوں میں اپوزیشن جماعتوں کی حکومتوں کو بھی دباؤ میں لانا ہے سندھ اور خیبر پختونخواہ میں وزرائے اعلی تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے ہیں مگر گورنرز وفاق کے نمائندے ہیں اور اس لئے اگر یہ صوبائی حکومتیں اسمبلیاں تحلیل نہیں کرتیں تو وہاں گورنر راج نافذ کئے جانے کے بھی امکانات ہیں دوسری طرف پنجاب اور بلوچستان میں چونکہ ن لیگ کی اپنی حکومتیں ہیں اس لئے وہ وہی اقدام کریں گی

جو مرکز میں ن لیگ کی قیادت کرے گی ذرائع نے بتایا کہ اس معاملے پر غور و خوض جاری ہے اور ن لیگ نے یہ انتہائی اقدام ناں کھیلاں گے نہ کھیلنے دینگے کی پالیسی کے تحت اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی حتمی منظوری پارٹی صدر نواز شریف سے حاصل کی جائے گی ، ذرائع نے بتایا کہ بزرگ سیاسی رہنما ؤ ں چوہدری شجاعت حسین ، ذوالفقار کھوسہ ، میر ظفر اللہ جمالی اور پیر پگارا کے اچانک بہت زیادہ متحرک ہونے کے پیچھے بھی ن لیگ مقتدر حلقوں کو دیکھ رہی ہے اس لئے وہ خود ہی ایک ایسا اقدام اٹھانے جا رہی ہے جس کا فائدہ ان کے سیاسی مخالفین کو نہیں ہوگا ن لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جو اراکین پارلیمنٹ ق لیگ سے ن لیگ میں آئے تھے وہ اب دوبارہ ایک نئی مسلم لیگ میں جانے کے لئے پر تو ل رہے ہیں اور اس نئی مسلم لیگ ن کی تیاریاں بھی جاری ہیں اور اس حوالے سے آنے والے دنوں میں ایک اہم سر پرائز خود مسلم لیگ ن کی ایک اہم شخصیت دے سکتی ہے ۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…