پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی خفیہ ایجنسی ’’انٹیلی جنس بیورو‘‘ اپنے ہی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا فون بھی ٹیپ کر رہی ہے؟

datetime 28  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی و ی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد کھرل نے کہا ہے کہ سینئر صحافی شوکت بسرا سے ہماری بات چیت ہوئی ہے، انہوں نے بڑے خطرناک پوائنٹس کی جانب نشاندہی کی ہے کہ جج صاحبان کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، جرنیلوں کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، صحافیوں کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں، آئی بی پارلیمنٹیرینز کے فون بھی ٹیپ کر رہی ہے۔ سینئر صحافی اسد

کھرل نے کہا کہ میں آج پھر کہہ رہا ہے، سپریم کورٹ اگر سو موٹو ایکشن لیتی ہے تو میں اس کے ثابت بھی کر دوں گا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا فون نواز شریف کے کہنے پر آئی بی کے چیف ٹیپ کر رہے ہیں، آئی بی کے سیکرٹ فنڈز سے کروڑوں روپے نکل رہے ہیں، جو نواز شریف کے ذاتی مذموم عزائم کیلئے خرچ ہو رہے ہیں، اسد کھرل نے مزید کہا کہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں ایک سو موٹو کیس پینڈنگ پڑا ہوا ہے جو اصغر خان کیس کا ایک پارٹ ہے۔ اس کیس میں بھی میں بہت ساری چیزیں پیش کر چکا ہوں اور دوبارہ بھی میں ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہوںکہ کن کن کے فون ٹیپ ہو رہے ہیں۔ ٹیکنیکل افراد کورٹ میں جاکر ثبوت فراہم کریں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان میں براہ راست وزیر اعظم کے انڈر کام کرنے والی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو آف پاکستان کے ایک جونیئر آفیسر نے ادارے کے متعدد افسران و اہلکاروں کے ملک دشمن خفیہ اداروں کے ساتھ روابط کا انکشاف کرتے ہوئے معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاہے۔ موقر قومی اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملک مختاراحمد شہزاد نے بیرسٹر مسرور شاہ کے ذریعے اسلام آباد میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو پاکستان میں تعینات بعض افسران و اہلکاروں کے شام، ایران، بھارت، افغانستان

اورازبکستان کے خفیہ اداروں سے تعلقات ہیں جن کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں تاہم حکام ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ہیں۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 2007ء میں ادارے میں شامل ہوا اور اس نے اپنی اسائمنٹ میں بہت سے ایسے اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ تحقیق کی ہے جو سرگودھا، کوٹ مومن، بھلوال میں نام نہاد کینو کے کاروبار میں ملوث ہیں اور مذکورہ بالا ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ

ان کے پاس اس کاروبار کی آڑ میں باقاعدہ ٹھہر رہے ہیں اور ملک دشمن سرگرمیوں میں یہ لوگ برابر کے شریک ہیں۔ درخواست میں چند افسروں اور دیگر اہلکاروں کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ یہ افسران و اہلکار شام، ایران، افغانستان کیلئے کام میں ملوث پائے گئے ہیں اور ان کی ٹریول ہسٹری بھی موجود ہے۔ درخواست میں ایران میں جاکر تربیت حاصل کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیلات اور انہیں ایرانی بینک ال انصر کے ذریعے کی جانے

والی لاکھوں روپے کی ادائیگیوں کو بھی تفیصلات فراہم کی گئی ہیں۔ درخواست میں استد عا کی گئی ہے کہ ان اہلکاروں کے خلاف آئی ایس آئی کے ذریعے تفتیش کروائی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف اقدامات کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…