پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ہم روہنگیا مسلمانوں کیلئے تو آنسو بہاتے ہیں اپنوں کو حقوق نہیں دیتے، سپریم کورٹ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے مہمند ایجنسی کے ہزاروں افراد کو پاکستانی شہریت دینے کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کیلئے تو ہم مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر اپنے شہریوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔ پیر کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مہمند ایجنسی کے 6 ہزار سے زائد افراد کو پاکستانی شہریت دینے کے خلاف اپیل

کی سماعت کی۔ عدالت نے شہریت دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کرتے ہوئے شہریوں کو شناختی کارڈ سمیت تمام حقوق دینے کا حکم برقرار رکھا۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ ان شہریوں کو شہریت دینے پر آپ کا کیا اعتراض ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار علاقے کا ملک ہے اور متعلقہ افراد پاکستانی نہیں بلکہ افغانی ہیں۔علاقے کا مَلک ہونے کا موقف اپنانے پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون میں مَلک یا سردار کی کیا حیثیت ہے، آپ جیسا سینئر پارلیمنٹرین وکیل اگر ’مَلک نظام‘ کاتحفظ کرے گا تو پاکستان کیسے چلے گا، آئین کھول کر بتائیں مَلک اور سردار کا آئین میں کہاں ذکر ہے، روہنگیا اور برما کے مسلمانوں کیلئے تو ہم مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں مگر اپنے شہریوں کو حقوق دینے کے لیے تیار نہیں، کیا ہم بھی روہنگیا مسلمانوں کی طرح اپنے شہریوں کی شہریت ختم کردیں، معاملے پر آئی ایس آئی نے بھی اپنی رپورٹ دی لیکن اس رپورٹ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرا موقف یہ نہیں کہ انھیں مْلک سے نکالا جائے، بلکہ میں شناختی کارڈ کے اجرا کے فیصلے کیخلاف آیا ہوں۔ تاہم

عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل خارج کرتے ہوئے شہریوں کو شناختی کارڈ سمیت تمام حقوق دینے کا حکم برقرار رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…