کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے بعد شہریوں نے ایک حملہ آور کو پکڑ کر تشدد کیا تھا۔ حملے کے فوری بعد کی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے۔ فوٹیج میں ملزم پر تشدد کے بعد جائے وقوعہ پر رینجرز اہلکاروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حملہ آور حسان کے جسم پرتشد د کے نشانات ہیں اور سر پر ایک گولی بھی لگی ہے تاہم حملہ آور مارا کیسے گیا؟ یہ نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور کی تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ 48 گھنٹوں میں جاری ہوگی جس میں موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔پولیس نے پہلے حملہ آور حسان کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا دعوی کیا تھا تاہم وزیر داخلہ سندھ نے
مبینہ پولیس مقابلے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مارا گیا ملزم حسان انجینئر سہراب گوٹھ کے علاقے کا رہائشی تھا اور ملزم کا سیاسی جماعت کے کارندوں سے بھتے کے تنازعہ پر جھگڑا بھی ہوا تھا۔ادھر سی ٹی ڈی نے حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کرکے والد سمیت اہل خانہ کو حراست میں لے لیا۔ خواجہ اظہار پر حملے میں ایک پولیس اہل کار اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے تھے ۔
خواجہ اظہار حملہ: شہریوں نے ایک حملہ آور پکڑ لیا تھا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
گریٹ گیم (آخری حصہ)
-
لاہور،سفاک ماں کے ہاتھوں تین بچوں کے قتل کا معاملہ،ملزمہ کے دوران تفتیش ہولناک انکشافات
-
پنجاب میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے کسی بھی مضمون میں فیل ہونیوالے طلباء کیلیے بڑی خوشخبری
-
راولپنڈی میں بازار جانے والی لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی
-
زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد جاں بحق
-
پاکستان میں مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
ایران نے روس سمیت دوست ممالک کو آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس سے استثنیٰ دے دیا
-
40فیصد بھارتی نژاد افراد امریکا چھوڑنے پر غور کرنے لگے
-
جنسی زیادتی کی سزا برقرار، مشہور فنکار سے ایوارڈ واپس لے لیا گیا
-
ایک ہی خاندان کے 9 نوجوانوں کی اپنی ہی 9 کزنز سے اجتماعی شادی، ویڈیو وائرل
-
ٹرمپ نے وفد کو مذاکرات کیلیے پاکستان جانے سے روکدیا،دورہ منسوخ کرنے کا اعلان
-
قیمتوں میں اضافہ، پیٹرولیم لیوی 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہوگئی
-
ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کیس کے ملزم نے خود کشی کر لی
-
آئی ایم ایف کا ایک اور بڑا مطالبہ سامنے آ گیا



















































