منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر رتھ فائو کی تدفین سرکاری اعزازاور قومی پرچم کے ساتھ کراچی کے گورا قبرستان میں کردی گئی

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں جذام کے خاتمے کے لیے شب و روز محنت کرنے والی ڈاکٹر رتھ فائو کی تدفین سرکاری اعزازاور قومی پرچم کے ساتھ کراچی کے گورا قبرستان میں کردی گئی ہے۔تدفین میں صدرمملکت ممنون حسین، آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ، ائیرچیف مارشل سہیل امان ، گورنرسندھ محمدزبیر،وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ

اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی ایم شیخ ، کورکمانڈر کراچی سمیت متعدد اہم سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔پاکستان کی مدر ٹریسا کہلائی جانے والی ڈاکٹر رتھ فائوکی آخری رسومات ہفتہ کی صبح صدر میں واقع سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں ادا کی گئیں۔ہزاروں چاہنے والوں کی آنکھیں اپنے مسیحا کے آخری دیدار پراشکبارتھیں۔آخری رسومات میں تینوں مسلح افواج کے دستوں کے علاوہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، گورنر سندھ محمد زبیر، سعید غنی، ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر فاروق ستار، میئر کراچی وسیم اختر اور پاکستان میں جرمن سفیر سمیت دیگر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں موجود افراد نے کھڑے ہوکر ڈاکٹررتھ فائو کو خراج عقیدت پیش کیا۔ان کے تابوت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹا گیا ۔سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں موجود افراد کو ڈاکٹر رتھ فائو کا آخری دیدار کرایا گیا۔پاک فوج کے دستے نے ڈاکٹر رتھ فائو کو آرٹلری گنز کی سلامی دی

اور ان کے جسد خاکی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سینٹ پیٹرک کیتھڈرل چرچ پہنچایا گیا۔ میری ایڈی لیڈ لیپرسی سینٹر میں ان کے مریضوں ، ملنے والوں اور انگنت پرستاروں کو آخری دیدار کرایا گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو کی آخری رسومات کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے۔چرچ کے اطراف عمارتوں پر رینجرز اہلکار تعینات کیئے گئے تھے

جبکہ چرچ میں خواتین اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔سیکورٹی کے لئے واک تھرو گیٹ بھی نصب کیئے گئے اور رسومات میں شرکت کے لیے سیکورٹی پاسز جاری کئے گئے تھے ۔ڈاکٹررتھ فاکی وصیت کے مطابق ان کی تدفین سرخ جوڑے میں کی گئی۔جذام یا کوڑھ کے مریضوں کا علاج کرنے والی ڈاکٹر رتھ فائو 10اگست کی رات کراچی میں چل بسی تھیں۔

ڈاکٹر رتھ فائو 9 ستمبر1929 کو جرمنی کے شہر لیپ زگ میں پیدا ہوئیں تھیں۔ ڈاکٹر رتھ فائو 1960 میں پاکستان آئیں اور پھر جذام کے مریضوں کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی تھی۔ وہ جذام کو مریضوں کو مفت سہولیات فراہم کرتی تھیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کو یہ اعزاز دلانے میں ڈاکٹررتھ فاو نے سب سے اہم کردار اداکیا۔انسانیت کی اس عظیم خادمہ ڈاکٹر رتھ فاو کو1998 میں اعزازی پاکستانی شہریت دی گئی جبکہ انہیں ہلال امتیاز، ستارہ قائد اعظم ، ہلال پاکستان اورلائیو اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…