بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

زرنیش مل گئی، لاکھوں پاکستانیوں کی کوششیں اور دعائیں رنگ لے آئیں، اغوا ہونے والی بچی کیسے ملی؟ حیران کن تفصیلات

datetime 4  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک ہفتہ قبل اغوا ہونے والی سات سالہ زرنیش نوید کو پندرہ لاکھ روپے تاوان دے کر اغوا کاروں سے چھڑا لیا گیا، تفصیلات کے مطابق 28 جولائی کو راولپنڈی میں گھر سے باہر دو موٹر سائیکل سواروں نے سات سالہ زرنیش کو اغوا کر لیا تھا، بچی کی چیخیں سن کر گھر والوں نے موٹر سائیکل سوار اغواء کنندگان کا پیچھا کیا مگر وہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، زرنیش کی فیملی اس کے اغواء پر پریشان تھی کہ کہیں اسے کچھ کر نہ دیا جائے،

اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر بچی کی تصاویر اور اغواء کی خبر دی جو کہ پورے پاکستان میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، لاکھوں پاکستانیوں نے بچی کی تصاویر شیئر کیں اور بچی کو ڈھونڈنے میں مدد کی اپیل کی۔ کئی مشہور شخصیات نے بھی بچی کی تصاویر شیئر کیں۔ لاکھوں پاکستانیوں کی دعائیں رنگ لائیں اور اغواء کاروں سے سات سالہ بچی زرنیش کو چھڑا لیا گیا۔ساتھ ہی بچی کے والدین نے اس کی بحفاظت رہائی کے لیے مسلسل مدد کرنے اور دعاؤں پر سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا۔تفصیلات کے مطابق راولپنڈی سے ایک ہفتے قبل اغوا ہونے والی بچی کو تاوان دے کر رہا کرا لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سات سالہ بچی کو 28 جولائی کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے راولپنڈی سے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔بچی کے والدین اور خاندان کے دیگر افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے بچی کی رہائی کے لیے معلومات دینے اور مدد کی اپیل کی تھی، جبکہ اس کے والد کی درخواست پر تھانہ لوھی بھیر میں اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔بچی کی رہائی کی اس مہم نے سوشل میڈیا پر تو زور پکڑا لیکن گزشتہ روز تک بچی کی رہائی کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہ ہوسکی تاہم جمعہ کو بچی کی اس کے والدین کے ہمراہ سوشل میڈیا پر نئی تصاویر سامنے آئیں، جن میں یہ پیغام لکھا تھا کہ بچی بحفاظت گھر پہنچ گئی ہے۔ساتھ ہی بچی کے والدین نے اس کی بحفاظت رہائی کے لیے مسلسل مدد کرنے اور دعاؤں پر سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بچی کی رہائی 15 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی، تاہم اغوا کاروں سے متعلق تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…