اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

والد کی جانب سے دیے جانے والے تحائف سے کیا خریدا؟ آف شور کمپنی، پاکستان سے باہر اکاؤنٹ؟ مریم نواز کے حیرت انگیز جواب سامنے آ گئے

datetime 12  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) والد کی جانب سے دیے جانے والے تحائف سے کیا خریدا؟ آف شور کمپنی، پاکستان سے باہر اکاؤنٹ؟ مریم نواز کے حیرت انگیز جواب سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کے میڈیا کو دیے گئے بیانات، تقاریر، انٹرویوز اور جے آئی ٹی کو دیے گئے بیانات میں تضاد سامنے آ رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے جے آئی ٹی کے سامنے جو بیان ریکارڈ کرایا،

وہ ان بیانات سے مختلف ہے جو انہوں نے میڈیا کے سامنے پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے کیا۔ جے آئی ٹی کے سامنے وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ والد کی جانب سے دیے گئے تحائف سے زرعی زمین خریدی، اس کے علاوہ مریم نواز نے بتایا کہ وہ کبھی کسی کاروبار سے انتظامی طور پر منسلک نہیں رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی میرا پاکستان سے باہر کوئی اکاؤنٹ ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ میں اپنے والد کے زیر کفالت نہیں ہوں، میں صرف اپنے والدین کی محبت اور ان کی قربت کے لیے ان کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ انہوں نے جے آئی ٹی کو مزید جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2006 سے پہلے لندن فلیٹ میں قیام ضرور کیا، اس وقت یہی معلوم تھا کہ یہ فلیٹ ہمارے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر نے حسین نواز کی کسی فرم کے لیے کبھی کام نہیں کیا، اس کے علاوہ 2011 میں میرے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا۔ مزید کہا کہ پروگرام میں میری بہن اسماء اور میری والدہ پر 25 سے 30 جائیدادوں سے تعلق کا کہا گیا جب کہ میں نے اس پروگرام میں میں نے پاکستان میں جائیداد نہ ہونے کی وضاحت بھی دی۔ مریم نواز کی جانب سے مزید کہا گیا کہ اپنے ہمراہ نیلسن، نیسکول اورکومبرکمپنی کے دو ٹرسٹ ڈیڈ لے کرآئی ہوں، مجھے 2005 میں اپنے بھائی حسین نوازکی دوسری شادی کا پتہ چلا،

ٹرسٹ ڈیڈ حسین نوا ز نے دونوں بیگمات میں جائیداد کی شریعت کے مطابق تقسیم کے لیے تیارکروائی، 2 فروری 2006 کو بطورٹرسٹی دستخط کیے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرنے بھی ٹرسٹ ڈیڈ پر بطور گواہ دستخط کیے۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ حسن نواز نیمجھے کوئی رقم بھیجی، اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ نیلسن، نیسکول کی دستاویزات پر لندن میں دستخط نہیں کیے جب کہ حسین نوازکے کہنے پر میں نے ٹرسٹ ڈیڈ پردستخط کیے لیکن مجھے نہیں یاد کہ نیلسن اورنیسکول کی دستاویزات پر آخری مرتبہ دستخط کب کیے، مریم نواز نے کہا کہ نیلسن نیسکول کے بیرئیر سرٹیفکیٹ آخری بار کب دیکھے مجھے کوئی یاد نہیں اور اس کے علاوہ منروہ کمپنی سے کبھی رابطہ کیا اورنہ ہی ہدایات دیں۔ اس طرح وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جے آئی ٹی اور میڈیا کو دیے گئے بیانات میں تضاد موجود ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…