منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

نواز شریف فیملی کاروبار سے مکمل مستفید رقم ذاتی اکائونٹس میں جمع ہو تی تھی

datetime 11  جولائی  2017 |

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف پر بعض سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی ملکیت میں ایسے اثاثے موجود ہیں جو ان کے معلوم ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔روزنامہ جنگ کے رپورٹر فخر درانی کے مطابق جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے مہیا کردہ حقائق سے مترشح ہوتا ہے کہ مدعا علیہ نمبر

ایک(نواز شریف) خاندان کی ملکیت بزنس میں اپنے کردار کو ایکوئٹی ہولڈر کے کردارتک محدود کیا ہوا ہے ۔فیملی بزنس کا ان کے پاس رسمی طور پرکوئی عہدہ نہیں ہے اسی طرح نہ ہی وہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔ ان کے ایسے موقف کا بظاہر مقصد خود کو کسی قانونی کارروائی سے دور رکھنا ہے۔جبکہ دوسری جانب صورتحال سے یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ فیملی کاروبار کے تمام فوائد سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اس بزنس کے ڈیویڈنڈز غیراعلانیہ آمدنی کی شکل میں مستقل بنیادوں پر ان کے ذاتی بنک اکائونٹس میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں شہادت کے طور پر بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے بیٹے مدعاعلیہ نمبرآٹھ کی ایک کمپنی کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے طور پر تنخواہ وصول کر رہے تھے۔ تاہم مدعا علیہان نمبر ایک چھ سات اور آٹھ کی جانب سے سی ایم اے میں فائل کردہ موقف سے یہ بات مختلف پائی گئی۔اس حقیقت کو پاکستان میں ریٹرنز اور ڈیکلیئریشنزمیں کبھی ظاہر نہیں کیا گیا خواہ یہ معاملہ ٹیکس ریٹرنز کا ہویا پھرالیکشن کمیشن میں اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن کا ، اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔مدعا علیہ نمبر ایک(نواز شریف) نےالیکشن 2013ءمیں حکام کے سامنے جو ٹیکس ریٹرنز فائل کیے اس میں موقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کو 100ملیں (دس کروڑ )روپے کا عطیہ کیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…