جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جن کو میں نے قتل کیا تھا وہ لوگ کو ن تھے؟ریمنڈ ڈیوس بالاخر خود ہی بول پڑا،پاکستانی عوام کو ان کے ’’رہنماؤں‘‘کے بارے میں اہم ’’مشورہ‘‘ دیدیا

datetime 9  جولائی  2017 |

واشنگٹن(آن لائن)امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی ‘دا کنٹریکٹر’ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں بیشتر لوگ ان کو جھوٹا گردانتے ہیں لیکن درحقیقت ان کے اپنے رہنماؤں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے لیکن ان سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔ ریمنڈ ڈیوس بی بی سی کے ایک پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے جہاں انھوں نے اپنی آپ بیتی کے حوالے سے کیے گئے سوالات کے جواب دئیے۔

ان کا کہنا تھاکہ ‘میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ واقعہ پاکستان کی سرزمین پر پیش آیا اور وہاں کے لوگ اس معاملے پر جذباتی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک بہت بڑی تعداد مجھے جھوٹا سمجھتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ میری کتاب ہے اور میری کہانی ہے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس پوری سلسلے کو میری نظر سے بھی دیکھنے کی کوشش کریں اور ملک کے رہنماؤں سے ان کے بدلتے ہوئی بیانات کے بارے میں سوالات کریں۔’اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ کتاب میں جن جن لوگوں کا انھوں نے نام لکھا ہے وہ اب منظر عام پر آ کر انھیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ ‘مجھے بڑا دکھ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھوٹا قرار دینے کے لیے، اور میرا نام بدنام کرنے کے لیے اس حد تک جا سکتے ہیں۔’ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ پاکستان میں یہ بڑا آسان ہے کہ اگر کسی معاملے میں خود سے الزام ہٹانا ہو تو انڈیا پر تہمت لگا دو اور اس سے عام عوام طیش میں آجاتی ہے اور جس کی غلطی ہوتی ہے اس سے کوئی سوال نہیں ہوتا۔انٹرویو میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ریمنڈ ڈیوس نے کہا ہے انھیں ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے کہ جن دو افراد کو انھوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا وہ دونوں کون تھے۔’پاکستان کے میڈیا میں خبر چل رہی تھی کہ وہ دونوں پاکستان کے خفیہ ادارے کے بھیجے ہوئے کارندے تھے۔

عدالت میں جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق ان دونوں کو چوری کے الزامات میں 67 بار حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خبریں تھیں کہ لشکر طیبہ نے بلیک واٹر کے اہلکاروں کو قتل یا اغوا کرنے کے لیے انعام رکھا ہوا تھا اور ہو سکتا ہے کہ ان دونوں نے اس انعام کے لالچ میں مجھ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔’ریمنڈ ڈیوس نے کہا کہ امریکہ واپس جانے کے بعد ان سے حکومتی اداروں نے اس واقعے کے بارے میں تفتیش بھی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…