جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے جے آئی ٹی کے ممبران کی جاسوسی ، معاملے کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

datetime 9  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کے دوران وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی فوٹو لیک کرنے والے شخص کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کردیا۔اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب میں سپریم کورٹ سے سوال کیا گیا کہ

کیا انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے پاس جے آئی ٹی ممبران کی جاسوسی کرنے کا قانونی حق تھا۔ہفتہ کے روز اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں حسین نواز فوٹو لیک کے معاملے اور آئی بی کے برتاؤ کے حوالے سے درخواست جمع کرائی گئی تھی۔جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں بننے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی عملدرآمد بینچ نے اٹارنی جنرل سے حسین نواز کی فوٹو لیک کرنے والے فرد کا نام ظاہر کرنے کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کا کہا تھا۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو خبردار کیا تھا کہ ان کا جواب میڈیا کے ذریعے نہیں بلکہ سپریم کورٹ میں باقاعدہ طور پر جمع کیا جانا چاہیے۔ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل نے اپنے جواب میں کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کو حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والے شخص کی شناخت کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملا لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ سپریم کورٹ خود اس معاملے کو زیر غور لاتے ہوئے فیصلہ کرے۔یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز کی سوشل میڈیا پر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کی فوٹو لیک ہونے کے بعد عدالت کو بتایا کہ انہوں نے تصویر لیک کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور 24 گھنٹوں کے اندر ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے اپنی رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کی تھی۔بعد ازاں اس شخص کو فوری طور پر اپنی ڈیوٹی سے ہٹا کر واپس اپنے محکمہ میں بھیج دیا گیا تھا جبکہ متعلقہ محکمہ کا کہنا ہے کہ اس شخص کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر ایکشن بھی لیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا تھا کہ وہ آئی بی کی کارروائیوں اور جے آئی ٹی رپورٹ پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں۔یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے آئی بی پر تحقیقاتی ٹیم میں شامل افراد کی جاسوسی کرنے کا الزام لگایا تھا جسے آئی بی نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی بی اس طرح کے قومی سطح کے معاملات کی معلومات جمع کرتی ہے جو اس کا معمول ہے۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ آئی بی کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ آئی بی نے

جے آئی ٹی ممبر بلال رسول کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک کیا، جسے حسین نواز کی جانب سے اپنی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کی مدد سے حسین نواز نے بلال رسول کے فیس بک اکاؤنٹ پر موجود نجی مواد تک رسائی حاصل کی تھی جو پرائیوسی کی خلاف ورزی ہے۔مزید کہا گیا تھا کہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری کو شریف خاندان کی حمایت کے لیے غلط انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…