جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی کے مزید بڑے بڑے نام قیادت سے ناراض، کس پارٹی میں شامل ہونیوالے ہیں؟ نام سامنے آ گئے

datetime 8  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کے آصف علی زرداری سے اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں، ضلع قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے میر نادر خان مگسی نے بھی پی پی پی سے دوری کی وجہ سے غیر متحرک ہیں اور گزشتہ چار سال سے ان کے ساتھی بھی غیر فعال ہیں۔ اسی طرح گھوٹکی کے لونڈ برادرز کو پارٹی میں واپس لانے کی وجہ سے مہر گروپ بھی قیادت سے ناراض ہو گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع گھوٹکی سے پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سردار علی محمد خان مہر اور سردار علی گوہرخان مہر نے لونڈ برادرز کے سردار نثار احمد لونڈ کی پی پی پی میں واپسی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور انہیں اس فیصلے پر اعتماد میں نہ لینے پر پارٹی قیادت کو اپنے خدشات سے آگاہ کردیا ہے، دوسری طرف لاڑکانہ ڈویژن کے با اثر سیاسی خاندان میر نادر علی مگسی اور ان کے بھائی رکن قومی اسمبلی میر عامر علی مگسی گزشتہ چار سالوں سے پی پی پی سے دوری اختیار کئے ہوئے ہیں اور میر نادر خان مگسی نہ صرف پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کر رہے بلکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں اورپچھلے چار سالوں کے دوران وہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی بہت کم ملیں ہیں۔ ان اختلافات کو ختم کرانے کے لیے رکن قومی اسمبلی خزب اللہ بگھیو نے کئی بار کوشش کی لیکن اختلافات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میر نادر علی خان مگسی کی مختلف سیاستدانوں سے رابطوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی وقت مگسی خاندان پی پی پی کو خیر باد کہہ سکتا ہے جبکہ مگسی خاندان کی بجائے اراکین سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو پر آصف علی زرداری کی مہربانیاں جاری ہیں اور ضلع قمبر شہداد کوٹ میں چانڈیو خاندان کی مرضی سے اعلیٰ افسران تعینات کئے گئے ہیں۔ مہر گروپ کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو ضلع گھوٹکی کے علاوہ ضلع سکھر میں شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…