جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اسحاق ڈار نے شوکت خانم ہسپتال کو کتنا چندہ دیا اور کس کا منہ دیکھ کر دیا تھا؟ حیرت انگیز انکشاف، اہم شخصیت نے پیسے واپس دینے کا اعلان کر دیا

datetime 7  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی و تجزیہ نگار رؤف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کہا کہ عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال کے لیے بیرون ملک سے اوورسیز پاکستانیز نے فنڈنگ کی ہے، اگر بیرون ملک سے فنڈنگ ہوتی ہے تو اوورسیز پاکستانیوں کو چاہئیے کہ وہ شکایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈنگ سے متعلق اسحاق ڈار نے بھی شکایت کر دی ہے اور اب عمران خان کو چاہیے کہ اسحاق ڈاریا ان کے

بیٹے نے جو پیسے عطیے کی صورت میں دیے ہیں وہ واپس کر دیں، عمران خان کو چاہیے کہ شوکت خانم کے ریکارڈ سے چیک کروائیں اور جتنا اسحاق ڈار یا ان کے بیٹے نے کینسر ہسپتال کو عطیہ دیا تھا، عمران خان ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کریں کہ وہ چیک بنا کر اسحاق ڈار کو واپس کریں۔ اس کے بعد عمران خان کو اسحاق ڈار کو کہنا چاہیے کہ اگر آپ نے میرا منہ دیکھ کر پیسے دیے تھے تو یہ میں آپ کو واپس کرتا ہوں، آپ کا بہت شکریہ۔ یا یہ عطیے کی رقم اگر آپ نے اللہ کی خوشنودی اور غریب مریضوں کی مدد کے لیے دی تھی تو پھر ٹھیکہے۔ لیکن چونکہ اب آپ نے ذاتیات پر حملہ کیا ہے تو آپ کے احسان کا بہت بہت شکریہ۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا نے عمران خان کو پیشکش کی اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو میں وہ پیسے واپس کرنے کو تیار ہوں۔ میں اپنی تنخواہ میں سے چیک کاٹ کر اسحاق ڈار کو پیسے واپس کر دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عطیہ کرنے والا شخص احسان جتا دے تو اس ادارے کے پاس اس شخص کی عطیہ کی ہوئی رقم رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اگر اسحاق ڈار نے میری اوقات سے بڑھ کر کروڑوں روپے کا چندہ شوکت خانم کو دیا تھا تو ہم وہ اکٹھا کرنے کے لیے چندہ مانگ لیں گے۔ اس کے علاوہ معروف صحافی رؤف کلاسرا نے سینئر صحافی ہارون رشید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ان کے دوست ہیں اور ہارون رشید ان کو کفایت شعار کہتے ہیں تو وہ اپنے کفایت شعار دوست کو کہیں کہ وہ اسحاق ڈار کے عطیے کے پیسے واپس کر دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…