جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کی زیر صدارت اجلاس،اہم فیصلہ کرلیاگیا

datetime 4  جولائی  2017 |

کراچی(آئی این پی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت سندھ ایپکس کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری اورصوبے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیف سٹی منصوبے پر کام تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا،جلاس میں پولیس اصلاحات ، وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط تعاون اور صوبے میں دیرپا امن کیلئے مزید اقدامات پر زوردیا گیا۔

منگل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سندھ ایپکس کمیٹی کا خصوصی اجلاس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور ہیڈ کوآرٹر کراچی میں ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ ، وزیرداخلہ ،چیف سیکرٹری ، آئی جی پی سندھ ، کورکمانڈر کراچی ، ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی پاکستان رینجرسندھ اور دیگر سول اور فوجی حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال اور صوبے کے اندرونی سیکیورٹی کے معاملات پر بریفنگ دی گئی ۔اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور سینٹرل جیل کراچی سے ہائی پروفائل دہشت گردوں کے فراراور اس حوالے سے مجوزہ دیگر اہم اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔سندھ ایپکس کمیٹی میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری اورصوبے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت سیف سٹی منصوبے پر کام تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔اجلاس میں پولیس اصلاحات ، وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مربوط تعاون پر زوردیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے میں دیرپا امن کیلئے مزید اقدامات پر زوردیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید اور سیکرٹری داخلہ سندھ نے اجلاس میں امن وامان پر بریفنگ دی ۔ ایپکس کمیٹی کا اجلاس پانچ گھنٹے سے زیادہ جاری رہا ۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سندھ پولیس کی کارکردگی میں حالیہ بہتری کو سراہا ۔ آرمی چیف نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کراچی کور اور سندھ رینجرز کی کاوشوں کی تعریف کی ۔اجلاس میں کہا گیا کہ شہر میں پائیدار امن ،عوام کی سیکیورٹی وحفاظت اورشہر میں معاشی سرگرمیوں کیلئے ضروری ہے۔آرمی چیف نے تمام سٹیک ہولڈرز کو باہمی تعاون بڑھانے ،

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافے ، فیصلہ سازی کے عمل اور پبلک ہولڈرزآفس کو احتساب کے دائرہ کار میں لانے کی ہدایت کی ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ریاست کی موثر عمل داری سے دیرپا امن قائم ہوسکتا ہے۔فوری انصاف وقت کی اہم ضرورت ہے ، بلا تفریق انصاف کی فراہمی سے ریاست کی عمل داری ممکن ہے، عوامی نمائندوں کے احتساب کیلئے جلد فیصلے کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…