جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ریمنڈ ڈیوس کی کتاب پاکستان کی 5 اہم شخصیات کو بھاری پڑ گئی، تاحیات نااہلی کا خدشہ

datetime 4  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ کے سابق رہنما ظفر علی شاہ نے لاہور میں دو پاکستانی نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد بری ہونے والے ریمنڈ ڈیوس کی حوالگی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ ظفر علی شاہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان کو حوالگی کے احکامات صادر کیے جائیں اور قتل کے مقدمہ کا آغاز کیا جائے۔

ظفر علی شاہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں 5 صفحات پر مشتمل درخواست میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل (ر) شجاع پاشا، سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما ظفر علی شاہ نے اپنی درخواست میں فریق بنائے گئے تمام افراد کی تاحیات نا اہلی کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مستقبل میں انہیں کوئی آئینی، سیاسی یا ریاستی ذمہ داریاں نہ دی جا سکیں۔ ظفر علی شاہ نے اپنی درخواست میں فریقین کو آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مرتکب ٹھہرانے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دائر کی گئی درخواست جو ریمنڈ ڈیوس کی منظر عام پر آنے والی کتاب دی کنٹریکٹر کے خلاف ہے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز پر مشتمل فل بنچ تشکیل دیا جائے اور درخواست کی سماعت کا آغاز کیا جائے، کیونکہ اس معاملے کا تعلق پاکستان کی سلامتی سے ہے، درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے کیس کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے اور اس کے علاوہ ریمنڈ ڈیوسکی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی میں اہم کردار ادا کرنے والے تمام افراد کے خلاف انکوائری کا حکم دیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق رہنما ظفر علی شاہ کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ قصاص اور دیت کے اسلامی قوانین کی بنیاد پر ریمنڈ ڈیوس کی رہائی پاکستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…