جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے پاس وزیراعظم کو نا اہل کرنے کا اختیار نہیں اگر نا اہل کیا تو قانون کی خلاف ورزی ہو گی،عرفان قادر

datetime 4  جولائی  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس وزیراعظم کو نا اہل کرنے کا اختیار نہیں اگر نا اہل کیا تو قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔ اخلاقی طور پر شریف خاندان پانامہ کیس میں پھنس چکے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کی بات کی جائے تو نواز شریف نے جو بیانات سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے

دیئے ان بیانات میں تضادات ہیں۔ اس پر ہی سپریم کورٹ کے دو ججز نے ان کو نا اہل قرار دیا۔ ماضی میں بھی سپریم کورٹ کے ججز نے قومی اسمبلی کے اراکین کو صادق اور امین نہ ہونے پر نا اہل کر چکے ہیں۔ اگر سپریم کورٹ کے تین ججز ماضی کے نتائج کی طرح فیصلہ نہ دیا تو ایسا لگے گا کہ انہوں نے قانون پر عمل نہیں کیا۔ اگر ماضی کے قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے ہیں تو آئین کے آرٹیکل190کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی کا سپیکر ہی اعلیٰ اختیارات رکھتے ہیں اور سپریم کورٹ ان کو ہدایات بھی نہیں دے سکتی اور نہ ہی سپریم کورٹ کے پاس وزیراعظم کو نا اہل رنے کا کوئی اختیار ہے۔ سپریم کورٹ کے تین ججز سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کو فیصلہ بھیج دیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی طور پر تو نواز شریف اور ان کا خاندان بری طرح اس کیس میں پھنس چکے ہیں۔ انہوں نے جے آئی ٹی کے بننے پر مٹھائیاں بھی بانٹی تھیں اور آج اس کے خلاف باتیں بھی کر رہے ہیں۔ جہاں تک قانونی پہلو ہے سپریم کورٹ خود ایک بند گلی میں آ گیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ماضی میں وہ فیصلے کئے اگر وہ اس میں کرے گا تو لگے گا سپریم کورٹ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں بن سکتی۔ سپریم کورٹ نے آج تک کوئی جے آئی ٹی نہیں بنائی اور اس جے آئی ٹی کی تشکیل غیر قانونی ہے۔ اگر جے آئی ٹی کو مان بھی لیا جائے تو اداروں میں دوبارہ تفتیش ہو گی۔

اگر سپریم کورٹ وزیراعظم کو نا اہل کر دیتا ہے تو یہ براہ راست قانون کی خلاف ورزی کرے گا کیونکہ سپریم کورٹ کو وزیراعظم کو نا اہل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار درست کہہ رہے ہیں کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے احتساب کے لئے پانامہ اور تھا اور وزیراعظم کے معاملے میں پانامہ اور ہے ۔ افتخار چوہدری آج بھی بہت پاور فل ہیں۔ موجودہ عدلیہ میں موجود لوگوں کا چناؤ انہوں نے ہی کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…