جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بجلی کے بل نہ دینے والوں کے ساتھ بل اداکرنیوالے بھی پھنس گئے،حکومت نے حیرت انگیزاعلان کردیا

datetime 27  مئی‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک میں ہر اس فیڈر کے علاقے میں لوڈشیڈنگ کی جائے گی جہاں پچاس فیصد سے زائد صارفین بل ادا نہیں کرتے‘ یہاں آمر رائے عامہ کے لیے سیاستدانوں سے بھی زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں تاہم یہ افسوسناک ہے شاید کبھی ہمیں سمجھ آ ہی جائے کہ کالا باغ کا منصوبہ اہم تھا‘

بجلی بچانے پر عوام کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی زور نہیں دیا اور اسی کوشش میں لگی رہی کہ نئے سے نئے پلانٹس کا افتتاح ہوتا رہے،عوام بجلی ضائع کرنے کے بجائے اس کااستعمال درست انداز میں کریں تو سسٹم سے تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بجلی بچانے کا کہتا رہا مگر کسی نے لفٹ نہ کرائی، ہم (حکومت)چاہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ پتا چلتا رہے کہ فلاں پلانٹ کا افتتاح ہوا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ بجلی کا ضیاع ہے۔ ہماری عوام بجلی ضائع کرنے کے بجائے اس کااستعمال درست انداز میں کرے تو سسٹم سے تین سے چار ہزار میگا واٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے مگر اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ رواں برس بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا تاہم جو لوگ بل نہیں دیتے ان کی لوڈ شیڈنگ جاری رہے گی۔ملک میں ہر اس فیڈر کے علاقے میں لوڈشیڈنگ کی جائے گی جہاں پچاس فیصد سے زائد صارفین بل ادا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں اب ہر روز 20 گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے کیونکہ ان علاقوں کے نوے فیصد سے زائد صارف بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔

اس سوال پر کہ مختلف اداروں اور صوبائی حکومتوں سے وصولیوں کے لیے کیا کیا جا رہا ہے کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ صوبہ سندھ سے 27 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے ساتھ وصولیوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم بلوچستان کی جانب سے اب بھی عدم ادائیگی برقرار ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو گردشی قرضوں کی مد میں 480 ارب روپے ادا کیے تاہم یہ قرضہ اب بھی 360 ارب روپے کو پہنچ گیا ہے۔

گردشی قرضوں کی وجہ ٹیرف کا غیرحقیقی اور سبسڈی کا کم ہونا ہے۔خواجہ آصف نے کالا باغ ڈیم منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سیاست کا شکار ہے۔کالا باغ پر قائل کرنے کے لیے جنرل ضیا ء اور جنرل مشرف کو کام کرنا چاہیے تھا کیونکہ آمر کو ووٹوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ یہاں آمر رائے عامہ کے لیے سیاستدانوں سے بھی زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں تاہم یہ افسوسناک ہے شاید کبھی ہمیں سمجھ آ ہی جائے کہ کالا باغ کا منصوبہ اہم تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…