جمعہ‬‮ ، 24 اپریل‬‮ 2026 

وزیراعظم کے ساتھ سعودی عرب میں شرمناک سلوک،ٹرمپ نے کیا کچھ کردیا؟عمران خان برس پڑے 

datetime 22  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ سعودی عرب میں جس طرح سلوک کیا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے ‘ نواز شریف نے بڑی نیٹ پریکٹس کی لیکن بارہویں کھلاڑی بنا دئیے گئے ‘ ٹرمپ کے باتوں پر نواز شریف کو کوئی تو بیان دینا چاہیے تھا ‘ ٹرمپ نے بھارت کا نام لیا اور کشمیر کی بات نہیں کی ‘ ٹرمپ کو پاکستان یاد ہی نہیں آیا ‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس ملک کے 70 ہزار افراد شہید ہوئے اس کا نام تک نہیں لیا گیا ‘ نواز شریف کو بولنا چاہیے تھا کہ ہم ایران کو تنہاء نہیں کرنا چاہتے ‘ دوسروں کی جنگوں میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں ‘ پاکستان کا کام آگ بجھانا ہونا چاہیے تھا ‘ وزیر اعظم کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم فریق نہیں ثالث بنیں گے ‘ جس طرح پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے نواز شریف کو اس پر استعفیٰ دینا چاہیے ‘ سوشل میڈیا ایک انقلاب ہے ‘ آزادی اظہار پر پابندی غیر جمہوری ہے ‘ انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے۔ پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خوش آئند ہے کہ عدالت نے کہا کہ تحقیقات 60 دن میں ہی ہو گی‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کریمنل انوسٹی گیشن ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ جس شخص کے خلاف کرمنل انوسٹی گیشن ہو وہ ملک کا وزیر اعظم ہے۔ امریکہ کے صدر کو پاکستانی وزیر اعظم سے ملنے کا خیال ہی نہیں آیا۔ جس طرح پاکستانی وزیر اعظم کو ٹریٹ کیا گیا وہ شرمندگی کا باعث ہے۔ ٹرمپ کی باتوں پر نواز شریف کو کوئی تو بیان دینا چاہیے تھا۔ نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ۔ پاکستان کے لوگوں کی ہی بات کر لیتے۔ ٹرمپ کو تو پاکستان یاد ہی نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری میں ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس ملک کے 70 ہزار افراد شہید ہوئے اس کا نام تک نہیں لیا گیا۔

ٹرمپ نے بھارت کا نام لیا اور کشمیر کی بات نہیں کی۔ ٹرمپ نے فلسطین کے عوامی نمائندوں کو دہشت گرد کہہ دیا۔ نواز شریف پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے تو انہیں بولنا چاہیے تھا کہ ہم ایران کو تنہا نہیں کرنا چاہتے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں مسلمان دنیا کو اکٹھا کرنا چاہیے ہمیں فریق نہیں ثالث بننا چاہیے۔ دوسروں کی جنگ میں شرکت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاکستان کا کام آگ بجھانا ہونا چاہیے۔ یہ سب باتیں نہیں کرنی تو سعود عرب جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ وزیر اعظم کو کہنا چاہیے تھا کہ ہم فریق نہیں ثالث بنیں گے۔ عمران خان نے کہاکہ نواز شریف کو کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرنی چاہیے تھی۔

ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ جیسا رویہ رکھا گیا وہ باعث شرمندگی ہے۔ جس طرح کی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے نواز شریف کو اس پر استعفیٰ دیدینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے بڑی نیٹ پریکٹس کی لیکن بارہواں کھلاڑی بنا دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ایک انقلا ب ہے۔ ہر انسان اپنی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ آزادی اظہار پر پابندی غیر جمہوری ہے انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے۔



کالم



گریٹ گیم(چوتھا حصہ)


لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…