جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کلبھوشن کامعاملہ ،عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں ایسی چیزہی شامل نہ کی جس کےلئے بھارت نے ر جوع کیاتھا؟مودی سرکارکے پیسنے چھوٹ گئے

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ کیس کے کلبھوشن یایود کے حوالے سے بھارت کی جا نب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کیس کے دفاع کیلئے نہ جانا مناسب فیصلہ نہ ہوتا ،کلبھوشن کے فیصلے کے دو پہلو ہیں‘ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد وکیلوں کی نئی ٹیم بنائیں گے ‘ قونصلر تک رسائی کے فیصلے کو آپریشنل آرڈر میں شامل نہیں کیا گیا ‘ عبوری فیصلے میں حکم امتناع کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے ‘

اپیل پر زیادہ تر کیسز میں حکم امتناع مل جاتا ہے۔ وہ جمعرات کو کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ردعمل دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف سے کلبھوشن یادیو کو پھانسی کے معاملے پر حکم امتناع ملنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اپیل پر زیادہ تر کیسز میں حکم امتناع مل جاتا ہے۔ ہماری اپنی عدالتوں میں بھی نظر ثانی کی اپیلوں پر ایسا ہی فیصلہ آتا ہے۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ قونصلر رسائی کے فیصلے کو آپریشنل آرڈر میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ بات بالکل غلط ہے کہ ہمارا وکیل کا انتخاب درست نہیں تھا بلکہ ہمارے وکیل کی تو ہر کسی نے تعریف کی ہے۔ انہوں نے کیس بڑی اچھی طرح سے پیش کیا۔ ہمارے وکیل نے بہت کم وقت میں بڑی اچھی تیاری کے ساتھ کیس پیش کیا۔ عدالت فیصلے پر ہمارے اٹارنی جنرل مزید وضاحت کریں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ ملک کی سیکیورٹی وجوہات اہم ہیں اپنی سیکیورٹی پرکسی صورت کمپرومائز نہیں کریں گے ۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ایڈہاک جج عالمی عدالت میں تعینات کرتے۔ عالمی عدالت نے قونصلر رسائی پر صرف رائے کا اظہار کیا ہے کوئی حکم نہیں دیا۔ ہمارا موقف تھا کہ دو طرفہ معاہدے میں سیکیورٹی معاملات میں قونصلر رسائی کا فیصلہ کیس ہائی کیس ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعدوکیلوں کی نئی ٹیم بنائیں گے اور ایڈہاک جج بھی تعینات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…