جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

مشال خان کا قتل،پیپلزپارٹی کا شدید ترین ردعمل،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی نے عبدلولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان پر سخت ترین تشدد کرکے قتل کرنے کے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس طالب علم پر اس کے ساتھی طلباء نے جمعرات کو توہین رسالت کا الزام لگایا تھا۔ ہفتہ کو پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس اندوہناک اور قبیح حرکت کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔

یہ واقعہ اس لئے بھی انتہائی قابل مذمت ہے کہ ہجوم کی جانب سے تشدد کو روکنے کے لئے انتظامیہ بالکل بے بس ہوگئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ایک مذموم جرم ہے اور اس کی سخت سزا قانون کے مطابق دی جانی چاہیے تاہم کسی کو تحقیقاتی افسر، وکیل اور جج بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی بھی جرم کی سزا صرف اور صرف قانون کے مطابق دی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے انہیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی چکی بہت باریک پیستی ہے۔ عبدالولی خان عدم تشدد پر یقین رکھتے تھے اور ان کی یاد میں یہ یونیورسٹی بنائی گئی تھی اور یہ یونیورسٹی اس قسم کے تشدد کے لئے نہیں ہے۔ عبدالولی خان کی روح اپنے ہی نام کی یونیورسٹی میں اس واقعے پر تڑپ رہی ہوگی۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر جامع تحقیقات کرائی جائے اور اس واقعے کے ذمہ داروں کو مثالی سزا دی جائے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ واقعہ اس ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے اور انہوں نے مذہبی اسکالرز سے کہا کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…