جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں سنگین بحران نے سِر اُٹھالیا،حکمران لمبی تان کرسوگئے،انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)واپڈا کے ایڈوائرزر برائے ڈیمز ڈاکٹرز اظہار الحق نے کہا ہے کہ منگلا اور تربیلا میں سلٹ آنے وکی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40فیصد تک کم ہو چکی ہے ،پاکستان میں حکمران ، ادارے اور عوام سب پانی ضائع کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہا رانہوں نے پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے زیر اہتمام ورلڈ واٹرڈے کی مناسبت سے سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں

نے کہا کہ پاکستان میں حکمران ، ادارے اور عوام سب پانی ضائع کرنے پر لگے ہوئے ہیں، بد قسمتی سے 37سال سے کوئی بڑا ڈیم نہیں بن سکا،پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے ، منگلا اور تربیلا میں سلٹ آنے وکی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 40فیصد تک کم ہو چکی ہے ، لاہور کراچی جیسے شہروں میں پانی میسر نہیں باقی شہروں کا تو اللہ حافظ ہے ۔پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے صدر چوہدری غلام حسین کا کہنا تھاکہ پانی کا مسئلہ سنگین تر ہو گیا ہے ۔بڑے شہروں میں 60فیصد تک پانی ضائع کر دیا جاتا ہے حالانکہ اسے صاف کر کے دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے لیکن کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ انجینئر افتخار الحق اور انجینئر ریاض تارڑ کا کہنا تھاکہ بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کو فوری نہ بنایا گیاتو سندھ والوں کو چند سال بعد موجودہ حصہ والا پانی بھی نہیں ملے گا ، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور پانی کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل کریں ،ناقص پالیسیوں سے قحط سالی مقدر بنتی جارہی ہے ، نئی نسل پانی کہاں سے لائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی ضائع کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔چالیس سال سے کوئی ڈیم بنا سکے اور نہ ہی پانی کو دوبارہ استعمال کرنے پر کام کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…