جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

میچ فسنگ سکینڈل،نجم سیٹھی اورچوہدری نثار میں ٹھن گئی،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 21  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(نیوزڈیسک)پاکستان سپر لیگ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی تحقیقات پروفاقی وزارت داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ آمنے سامنے آ گئے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ جس عمل سے ملک کی بدنامی ہو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ اس کی انکوائری کر سکتا ہے، الزامات نہ لگائے جائیں۔ وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ جس عمل سے پاکستان بدنام ہو، ایف آئی اے از خود تحقیقات کر سکتی ہے۔انہوں نے

کہاکہ الزامات کی بجائے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے۔چوہدری نثارعلی خان نے کہاکہ نجم سیٹھی سے خود بات کریں گے اورملک کوبدنام کرنے کے اس معاملے کی تحقیقات مل کر کرنی چاہیں۔وزارت داخلہ کے ذرائع مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ تعاون نہیں کر رہا،کھلاڑیوں کے موبائل فونز اب تک نہیں دیئے گئے۔ پی ایس ایل چیئر مین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ہم نے ایف آئی اے سے موبائل فون ڈیٹا کی تصدیق کو کہا تھا ، تحقیقات کو نہیں۔انکوائری پی سی بی کو کرنے دیں یہ ہمارا کام ہے ہم تحقیقات کے بعد سارا ڈیٹا ایف آئی اے کو دیں گے۔پھر وہ چاہیں تو سزا دیں۔ پی ایس ایل میں اسپاٹ فکسنگ کے اہم معاملے میں ملک کے دو بڑے ادارے آمنے سامنے آگئے۔ اسپاٹ فکسنگ کیس میں پی سی بی کی جانب سے ایف آئی اے سے تعاون کی درخواست پر ایف آئی اے حرکت میں آئی،پانچوں کھلاڑیوں کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔تاہم اب پی سی بی اب چاہتا ہے کہ ایف آئی اے تحقیقات روک دے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے اسے پانچوں کھلاڑیوں کے موبائل فونز فراہم کیے جائیں جو بعد میں ثبوت کے طور پر پیش کیے جاسکیں۔اس سلسلے میں ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ تاہم چیئرمین پی ایس ایل نجم سیٹھی کا کہنا ہے ایف آئی اے پی سی بی کو اپنی تحقیقات پوری کرنے دے۔اس کے بعد تمام ڈیٹا تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کردیا جائے گا۔ دوسری

جانب پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد کا کہنا ہے ایف آئی اے سے صرف موبائل ڈیٹا کی تصدیق کا کہا گیا تھا،کھلاڑیوں کے رویے پر کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ جبکہ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے کارروائی پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد ہی کی درخواست پر ہی شروع کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…