ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

پاک چین اقتصادی رہداری ،آپریشن ردالفساداورافغان مہاجرین ،آرمی چیف نےبڑافیصلہ سنادیا

datetime 9  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی(آئی این پی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت ہونی والی کورکمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان میں سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر سی پیک کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں ،دشمن کے تمام مذموم عزائم کو پوری قوم کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا جائے گا، پاک فوج مادر وطن کی سیکیورٹی اور دفاع کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گی ،پاکستانی عوام اور بہادر سیکورٹی

فورسز کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا، پاک فوج مردم شماری کو قومی خدمت کے طور پر انجام دے گی۔جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 200ویں کورکمانڈر کانفرنس جنرل ہیڈ کوآرٹر میں منعقد ہوئی جس میں داخلی سلامتی اور خطے کی صورتحال، پاک افغان سرحدی صورتحال ،لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی غور کیا گیا ۔ آرمی چیف نے کانفرنس کے شرکاء کو اپنے حالیہ کامیاب دورہ متحدہ عرب امارات اور قطر کے دوران وہاں کی لیڈر شپ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔ کانفرنس کے شرکاء نے لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کیلئے سیکیورٹی انتظامات اور حالیہ دہشت گرد حملوں کے واقعات کے بعد موثر کاروائی کرنے پر سیکیورٹی فورسز ،پولیس، انٹیلی جنس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا ۔ کانفرنس میں آپریشن ردالفساد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آپریشن ردالفساد دہشت گروں کے خلاف ایک جامع آپریشن ہے جو کسی خاص طبقے ،قوم اور گروپ کے خلاف نہیں ۔حالیہ آپریشنز میں پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے تعاون کو بھی سراہا گیا ۔نیشنل ایکشن پلان پر تفصیلی جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ

آپریشن ردالفساد کے ذریعے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو تیز کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈز کو مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن واستحکام قائم کیا جا سکے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکاء کو حکومت کے ساتھ گزشتہ سیکیورٹی کانفرنس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جس میں پاک افغان بارڈ پر باڑ لگانے ، افغان پناہ گزینوں کی واپسی ، عدلیہ ، پولیس اور مدارس ، تعلیمی اداروں میں اصلاحات اور فوجی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردوں کو سنائی جانے والی سزائے موت کی سزاؤں پر عمل درآمد شامل ہے ۔ کانفرنس کے شرکاء نے فوجی عدالتوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔اگرچہ فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے معاملہ حکومت کے ساتھ حل طلب ہے ۔ اجلاس میں ڈان لیکس کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔ کانفرنس میں چھٹی مردم شماری کا معاملہ بھی زیر غور آیا ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج مردم شماری کو قومی خدمت کے طور پر انجام دے گی ۔کانفرنس کے دوران کہا گیا کہ غیر ملکی ایجنسیاں پاکستان میں سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر سی پیک کو سبوتاژکرنا چاہتی ہیں

،دشمن کے تمام مذموم عزائم کو پوری قوم کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا جائے گا ۔کو رکمانڈر کے شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک فوج مادر وطن کی سیکیورٹی اور دفاع کیلئے ہر ممکن کردار ادا کرے گی ۔پاکستانی عوام اور بہادر سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…