پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

پھانسی کے پھندوں کا استعمال شروع، آئی ایس پی آر نے زبردست اعلان کردیا

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی) فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے دہشتگردوں کی سزاؤں پر دوبارہ عمل درآمد شروع ہوگیا،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 5 خطرناک دہشت گردوں کو ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پھانسی دے دی گئی،تمام دہشتگردوں کو فوجی عدالتوں نے سزا سنائی تھی ۔ بدھ کوپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل کوہاٹ میں پانچ خطرناک دہشت گردوں جنہیں فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائی

تھی کو پھانسی دے دی گئی ۔ ان دہشت گردوں میں شوکت علی ولد عبدالجبار، امداد اللہ ولد عبد الواجد، صابر شاہ ولد سید احمد شاہ، خاندان ولد دوست محمد خان اور انور علی ولد فضل غنی شامل ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شوکت علی ولد عبدالجبار تحریک طالبان پاکستان کا ایک اہم رکن تھا جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں کئی فوجی شہید اور زخمی ہوئے ، ملزم نے ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا ۔ ملزم پر پانچ الزامات تھے جس پر سے سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ امداد اللہ ولد عبدالواجد بھی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو ضلع بونیر میں تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اس پر پانچ الزامات تھے جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔ پھانسی کی سزا پانے والے دہشت گرد صابر شاہ ولد سید احمد شاہ تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید ہوئے ۔ ملزم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا اور اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ خاندان ولد دوست محمد خان بھی

تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی شہید اور زخمی ہوئے۔ مجرم نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔ انور علی ولد فضل غنی تحریک طالبان پاکستان کا اہم رکن تھا جو سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھا ۔

ان حملوں میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے اور اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے سامنے اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے تین الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…