جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

’’آپ کا حکم آئین کی جگہ نہیں لے سکتا ‘‘ اہم معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کا جاری کر دہ ایگزیکٹو آرڈر مسترد کر دیاگیا

datetime 5  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)سندھ حکومت نے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کو تحلیل کرنے کے وزیراعظم کے جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا حکم آئین کی جگہ نہیں لے سکتا۔صوبائی انتظامیہ نے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ انھیں وزارت سیاحت اور آثار قدیمہ کے تحت آنے والے تمام اثاثوں کا مکمل کنٹرول دیا جائے۔سندھ حکومت کی جانب سے اسلام آباد کو بھیجے گئے ایک اعلامیے میں متنازع مسئلے کے حوالے سے 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دیے گئے اختیارات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘پی ٹی ڈی سی کے معاملے پر فیصلہ نفاذ کمیشن کے آئینی ادارے نے کرنا ہے اور یہ وزیراعظم پاکستان کے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے منسوخ نہیں کیا جاسکتا’۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’18ویں آئینی ترمیم کے مطابق نفاذ کمیشن کے فیصلے کے مطابق وفاقی وزارت آثار قدیمہ اور سیاحت کے تحت کام کرنے والے تمام ادارے سندھ حکومت کے حوالے کردیے جائیں گے’۔اس میں کہا گیا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد سیاحت کی وزارت تحلیل ہوگئی ہے اور سیاحت اب ایک صوبائی معاملہ ہے جبکہ اسلام آباد پہلے ہی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل میجمنٹ (پی آئی ٹی ایچ ایم) اور کراچی کا ڈپارٹمنٹ آف ٹورازم سروسز (ڈی ٹی ایس) سندھ حکومت کی وزارت سیاحت کے حوالے کرچکا ہے جبکہ مرکزی آثار قدیمہ کی لیبارٹری، پاکستان کلچر اینڈ آرٹس فاؤنڈیشن ریلیف فنڈ اور میوزیم معاوضہ فنڈ یہ تمام وہ ادارے ہیں جو سندھ حکومت کے حوالے نہیں کیے گئے۔
اس کے علاوہ پی ٹی ڈی سی کے 4 اثاثے سندھ حکومت کے حوالے کیے جانے ہیں جن میں کراچی میں ہاکس بے پر قائم ہوٹل، ٹھٹھہ میں موجود سیاحوں کی معلومات کا مرکز، موہن جو دڑو میں قائم ہوٹل اور سیاحوں کی معلومات کا مرکز، اور سکھر میں موجود 23 کینال کی اراضی شامل ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ آئین میں ہونے والی اہم ترمیم کے تحت وفاقی حکومت نے اپریل 2011 میں 5 وزارتوں کو ختم کردیا تھا، جن میں ثقافت، تعلیم، لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ، سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم، اور سیاحت شامل ہیں۔تاہم ان وزارتوں اور ڈویڑنز کے کچھ شعبے اب بھی وفاق کے انتظام میں ہیں اور انھیں منتقل کیا جانا باقی ہے، اسلام آباد کے زیر استعمال ایسے 35 شعبے ہیں جن کو کابینہ ڈویڑن منتقل کردیا گیا تھا۔
اسلام آباد میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ صوبوں کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ خاص طور پر سندھ اور خیبرپختونخوا کے دعووں کو نہیں مانا جاسکتا جب تک وزیراعظم اس کا فیصلہ نہ کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی جانب سے صوبے میں موجود پی ٹی ڈی سی کے ہوٹلوں پر زبردستی قبضے کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔اسلام آباد سے سندھ کے لیے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘اس معاملے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنچ کیا گیا اور ساتھ ہی دیگر صوبوں گلگت بلتستان اور آزاد جموں اور کشمیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرلیے’۔سندھ حکومت کے حکام کا کہنا تھا کہ تاہم وزیراعظم کی جانب سے جاری کیا جانے والا ایگزیکٹو آرڈر آئین کی جگہ نہیں لے سکتا۔سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ہم وفاقی حکومت کی جانب سے اختیار کیے جانے والے حربوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گے جن کا مقصد آئین کے اختیارات کے ذریعے صوبوں کو دیے گئے کنٹرول کی مزاحمت کرنا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…