جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اگر ہم خیبرپختونخوا میں حکومت بنالیتے تو۔۔۔۔۔،نوازشریف ،لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی ڈیڈلائن دیدی

datetime 16  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ گھبرانے والے نہیں،ڈٹ کر کٹھن حالات کا مقابلہ کرتے ہیں،ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر رہے ہیں،توانائی بحران ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے تاریخیں ہی دیتے رہے،عوام کو دھوکہ دے کر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے،2018میں بجلی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،گذشتہ حکومت کی کارکردگی پر عوام نے انتخابات میں فیصلہ سنایا، کراچی کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آپریشن جاری رہے گا،دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے،دین میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو کچل ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے،ہمارے دور میں بدعنوانی کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا،خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام ہم کر رہے ہیں،اگر ہم کے پی کے میں حکومت بنالیتے تو دھرنے والے کیسے بے نقاب ہوتے۔

وہ جمعرات کو وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت ایکسپورٹ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ گھبرانے والے نہیں،ڈٹ کر کٹھن حالات کا مقابلہ کرتے ہیں،آخری سانس تک ملک کی خدمت کرتے رہیں گے،حکومت میں آئے تو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا،ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہوچکا تھا،ماضی کی غلط پالیسیوں سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر رہے ہیں،سب سے پہلے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی،توانائی بحران ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے تاریخیں ہی دیتے رہے،عوام کو دھوکہ دے کر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے،2018میں بجلی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی،ماضی کی حکومتوں نے اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہماری سوچ2018تک محدود نہیں بلکہ کہیں آگے کی ہے،ماضی کے حکمرانوں کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا،گزشتہ حکومت نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے،گذشتہ حکومت کی کارکردگی پر عوام نے انتخابات میں فیصلہ سنایا،2018میں عوام کو لوڈشیڈنگ کی لعنت سے نجات دلائیں گے۔انہوں نے کہاکہ 2013تک ملک دہشتگردی کی عفریت کا شکار تھا،دہشتگردوں کو مذاکرات کے ذریعے راہ راست پر لانے کی کوشش کی،دین میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو کچل ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے،آنیوالے وقت بہت بہتر ہوگا،گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 6.2فیصد اضافہ ہوا ہے،حکومت کی معاشی پالیسیوں سے برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے،ہمیں شرح نمو پر بھرپور توجہ دینی ہے،شرح نمو میں اضافے سے غربت ،پسماندگی اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے کسانوں کو بھرپور مراعات دیں گے،سی پیک منصوبے سے توانائی سمیت مختلف بحرانوں پر قابو پارہے ہیں،تھر پاکستان کے شاندار مستقبل کی امید ہے،تھر کے کوئلے کی فراہمی سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری ہوں گی،ہماری ترجیح سستی اور وافر بجلی کی فراہمی ہے،برآمدات بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے،بھاشا ڈیم 1400ارب روپے کا منصوبہ ہے،بھاشا ڈیم کیلئے زمین خرید لی گئی،یہ ملک کا سب سے بڑا توانائی و آبی منصوبہ ہوگا،کراچی کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آپریشن جاری رہے گا،گذشتہ 70برس میں گوادر کی ترقی پر کسی نے توجہ نہیں دی۔

گوادر پاکستان کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے،بلوچستان کے عوام کی مایوسی خوشی میں تبدیل ہورہی ہے،2013کے انتخابات کے بعد بلوچستان کے عوام کو حکومت بنانے کا موقع دیا،احسا س محرومی ختم کرنے کیلئے بلوچستان میں تمام جماعتوں پر مشتمل حکومت قائم کی۔وزیراعظم نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تمام ترقیاتی کام ہم کر رہے ہیں،گذشتہ ادوار میں موٹروے لاہورتک محدود ہو کر رہ گئی،آج موٹروے پنجاب سے نکل کر سندھ تک پھیل چکی ہے،آزادکشمیر میں مثالی ترقی کا دور شروع ہورہا ہے۔وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ چاہتے تو مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر کے پی کے میں حکومت بناسکتے تھے،اگر ہم کے پی کے میں حکومت بنالیتے تو دھرنے والے کیسے بے نقاب ہوتے۔اس موقع پر وزیراعظم نے بہترین کارکردگی والے برآمدکنندگان کو ایوارڈز دیئے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار،وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر،وزیرمملکت مریم اورنگزیب بھی تقریب میں شریک تھے جبکہ معروف صنعت کار ،تاجر اور کمپنیوں کے سربراہان نے بھی تقریب میں شرکت کی



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…