حکومت نے اپنا آخری پتہ پھینک دیا!! عمران خان بڑی مشکل میں پھنس گئے

  جمعرات‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2016  |  12:36

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہم نے بہت برداشت دکھائی ہے لیکن اب کسی کو سرکاری دفاتر بند کرنے، حکومت یرغمال بنانے ، شہر بند کرانے اور دھمکیاں دینے والوں کو کھلی اجازت نہیں دیں گے جبکہ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے ،اب عمران خان خیرات اور زکواۃ کے پیسوں کا حساب بھی دیں؟سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت اور وزیراعظم نے روز اول سے پاناما لیکس کے معاملے کو لیگل فورم پر لے جانے کے لئے کہا ، حکومت نے ہرطرح سے کوشش کی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے، سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل کمیشن بنانے کی درخواست کی لیکن تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن نہ بننے دیا، عمران خان نے ریٹائر جج پر مشتمل کمیٹی بنانے پر اتنا شور مچایا کہ کوئی جج تحقیقات میں شامل ہونے کے لئے تیار نہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی قانون لانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن نے اسے ناکام بنا دیا قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی پی ٹی آئی اراکین نے پاناما معاملے پر راہ فرار اختیارکی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مسئلے کے حل کیلئے سنجیدہ نہیں اور نہ ہی مسئلے کا حل چاہتی ہے اپوزیشن کی جانب سے پیش کئے جانے والے ٹی او آرز صرف وزیر اعظم کی ذات کو نشانہ بنانا رہے تھے کیونکہ اپوزیشن کا ہدف صرف نوازشریف ہیں،خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اب پاناما کے حوالے سے قانونی عمل کا آغاز ہوگیا ہے، عمران خان بتائیں کہ وہ دھرنا کیوں دینا چاہتے ہیں اور دارالحکومت کو بند کرنے کے کیوں درپے ہیں، مسائل کا حل میڈیا اور سڑکوں پر کیوں چاہتے ہیں، عمران خان عدالت عظمیٰ میں آگئے ہیں تو انہیں اب ادارے پر اعتماد اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا انتظار کرنا چاہئے، اب اسلام آباد بند کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا وہ جمہوریت کو خطرے کی جانب لے جانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر صورت جمہوریت کا خاتمہ ہو۔ ہم نے بہت برداشت دکھائی ہے لیکن اب کسی کو سرکاری دفاتر بند کرنے، حکومت یرغمال بنانے اور شہر بند کرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ اپوزیشن رہنما پانامہ کے معاملے پر دھول اڑا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی حکومت کو دھمکیاں دے گا تو پھر ایسے لوگوں کو کھلی چھٹی نہیں دی جاسکتی، اسلام آباد بند کرنیوالوں کیخلاف بھرپور طریقے سے نمٹنے کے لئے مشاورت جاری ہے۔
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) احتساب سے گھبرانے والی نہیں ، نوازشریف نے پاناما لیکس کے بعد ہی آپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر دیا اور سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کیلئے خط لکھا کہ میں احتساب کیلئے تیار ہوں۔اب عمران خان بھی حیرات اور زکوٰۃکے پیسے کا حساب دیں؟انہوں نے کہا کہ ہم کسی مرحلے پر بھی احتساب سے بھاگنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش نہیں کی ،نواز شریف نے الیکشن کمیشن میں بھی جوا ب دیااورسپریم کورٹ میں بھی جواب دینے کو تیار ہیں جبکہ عوامی عدالت میں بھی لے کر جایا گیا تو ہم وہاں بھی سرخرو ہوں گے اور مسلم لیگ (ن) ہر فورم پر احتساب کیلئے تیار ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ہم تو ہر فورم پر جواب دے رہے ہیں مگر عمران خان سے پوچھ رہاہوں کے شوکت خانم کیلئے 7 ملین ڈالر خیرات کے پیسے اور سیلاب کے پیسے کھانے پر جواب کیوں نہیں دے رہے۔انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ امتیاز حیدری کون ہے؟ اور اپنے پیسے کہاں انویسٹ کئے ہوئے ہیں ،عمران خان مسقط میں زمین اور بانڈز کے حوالے سے بھی قوم کو بتائیں۔انہوں نے کہا کہ 2010ء میں سیلاب کے متاثرین کیلئے جو گھر بنانے کی غرض سے جو زکواۃاور پیسے لئے تھے وہ کہاں ہیں؟حساب تو دو لوگوں کی خیرات اور زکوٰۃکے پیسے کہاں ہیں؟وفاقی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج ہم پاکستان میں انصا ف کے سب سے بڑے ادارے کے سامنے بھی ایسے ہی موجود ہیں جسے دیگر اداروں کے سامنے موجود ہوتے ہیں۔’’احتساب حکومت کا بنیادی ستون ہے ‘‘، پاناما لیکس کے بعد حکومت نے پارلیمنٹ میں پارلیمنٹری کمیٹی بنائی اور الیکشن کمیشن میں بھی جواب دیا۔تجزیہ نگاروں کے مطابق حکمران جماعت نے 2 نومبر دھرنا ناکام بنانے کیلئے اپنا آخری پتہ پھینک دیا ہے۔ اب عمران خان کا احتساب کا موقف کمزور پڑ جائیگا کیونکہ مسلم لیگ(ن) نے یہ موقف اپنائے گی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو احتساب کیلئے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎