ہفتہ‬‮ ، 18 اپریل‬‮ 2026 

’’بس بہت ہو گیا‘‘ بھارت اب اپنی شکست تسلیم کر لے وزیر اعظم نے سخت پیغا م دیدیا

datetime 20  جولائی  2016 |

لاہور(مانیٹر نگ ڈیسک ) وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اقوام متحدہ کا موضوع کیوں نہیں ہے؟۔تفصیلات کے مطابق بھارتی مظالم پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں منائے جانے والے یوم سیاہ کے موقع پر وزیر اعظم محمد نوازشریف نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پاکستان اور کشمیر کا رشتہ دیرینہ اور ہمہ گیر ہے، کشمیر کو کسی بھی طرح بھارت کا داخلی مسئلہ قرار نہیں دیا جاسکتا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ افراد کا قتل عام کر کے انسانیت مضطرب کردی۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا‘‘. وزیر اعظم نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر عوام ارادہ کرلیں تو ہتھیار کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، بھارت مظلوموں کی آواز تو دبا سکتا ہے مگر ذہنوں پر تالے نہیں لگا سکتا‘‘، پاکستانی حکومت اور عوام کسی کو بھی انسانیت کے مسلمہ اصول پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔میاں محمد نوازشریف نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان آزمائش کی ہرگھڑی میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور اُن کے حق خودارادیت کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کرتا رہے گا‘‘۔ وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا کہ ’’اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر میں پاکستان کو فریق مانا ہے، عالمی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنا کرکردار ادا کریں‘‘۔
میاں نوازشریف نے بھارت کو یاد دلایا کہ ’’اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا ہے اور بھارت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا، مگر آج ایک سازش کے تحت کشمیر کو بھارت کا داخلی مسئلہ قرار دیا جارہا ہے جو انتہائی مضحکہ خیز ہے ‘‘۔محمد نوازشریف نے کہا کہ ’’بھارت سمجھ لے کہ کشمیر میں اٹھنے والی آزادی کی آواز کو کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا، بھارت کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اب اپنی شکست تسلیم کرے اور کشمیریوں کو اُن کا حق دے‘‘۔وزیر اعظم نے پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ آج بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ منائیں جبکہ پاکستان میں موجود تمام سرکاری اہلکار بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں تاکہ دنیا کو واضح پیغام دیا جاسکے‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…