اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’’بس بہت ہو گیا‘‘ بھارت اب اپنی شکست تسلیم کر لے وزیر اعظم نے سخت پیغا م دیدیا

datetime 20  جولائی  2016 |

لاہور(مانیٹر نگ ڈیسک ) وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق پامال کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے، کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اقوام متحدہ کا موضوع کیوں نہیں ہے؟۔تفصیلات کے مطابق بھارتی مظالم پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں منائے جانے والے یوم سیاہ کے موقع پر وزیر اعظم محمد نوازشریف نے جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’پاکستان اور کشمیر کا رشتہ دیرینہ اور ہمہ گیر ہے، کشمیر کو کسی بھی طرح بھارت کا داخلی مسئلہ قرار نہیں دیا جاسکتا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ افراد کا قتل عام کر کے انسانیت مضطرب کردی۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا‘‘. وزیر اعظم نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر عوام ارادہ کرلیں تو ہتھیار کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، بھارت مظلوموں کی آواز تو دبا سکتا ہے مگر ذہنوں پر تالے نہیں لگا سکتا‘‘، پاکستانی حکومت اور عوام کسی کو بھی انسانیت کے مسلمہ اصول پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔میاں محمد نوازشریف نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، پاکستان آزمائش کی ہرگھڑی میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور اُن کے حق خودارادیت کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کرتا رہے گا‘‘۔ وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا کہ ’’اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر میں پاکستان کو فریق مانا ہے، عالمی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنا کرکردار ادا کریں‘‘۔
میاں نوازشریف نے بھارت کو یاد دلایا کہ ’’اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا ہے اور بھارت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے گا، مگر آج ایک سازش کے تحت کشمیر کو بھارت کا داخلی مسئلہ قرار دیا جارہا ہے جو انتہائی مضحکہ خیز ہے ‘‘۔محمد نوازشریف نے کہا کہ ’’بھارت سمجھ لے کہ کشمیر میں اٹھنے والی آزادی کی آواز کو کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا، بھارت کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اب اپنی شکست تسلیم کرے اور کشمیریوں کو اُن کا حق دے‘‘۔وزیر اعظم نے پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ آج بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ منائیں جبکہ پاکستان میں موجود تمام سرکاری اہلکار بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں تاکہ دنیا کو واضح پیغام دیا جاسکے‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…