اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

عیدکی آمد‘ 200 ارب روپے ‘ خیبر پختونخواہ حکومت نے عوام پرنیابم گرا دیا

datetime 4  جولائی  2016 |

عید کے آمد سے قبل کے پی حکومت نے عوام کیلئے نئی مشکل کھڑی کر دی‘ خیبر پختونخواہ حکومت نے کے پی کی عوام پر 200 ارب روپے کے نئے ٹیکسز نافذکر دیئے۔ نئے نافذ العمل ٹیکسز کے تحت اراضی ، انتقال الاٹمنٹ ، سٹامپ پیپر ، اسلحہ فیس میں اضافہ ، ہو ٹلز ، ریسٹورانٹ ، کلب ، شادی ہالز ، ٹریننگ سنٹر ، فلم ، کوچنگ سروس ، سٹیج شو ، اشتہارات اور بل بورڈ پر ٹیکسزبھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ اراضی کی انتقالات کی مد میں رہائشی پلاٹ فی مرلہ الاٹمنٹ آرڈر ٹیکس 200روپے سے بڑھا کر تین سو روپے ، کمرشل پلاٹ تین مرلہ آلاٹمنٹ چار سو روپے سے بڑھا کر چھ سو روپے ، سٹامپ پیپر پر ڈیوٹی ساٹھ روپے سے بڑھا کر سو روپے ، اسلحہ لائسنس کی تجدید ایک ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ ہزار ، ڈھائی ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار کر دیئے گئے ہیں۔
11سو سی سی سے 18 سو سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس 18 سو سے بڑھا کر 2ہزار250 روپے کر دیا گیا ہے۔ رکشہ‘ موٹر سائیکل‘ذاتی استعمال کی گاڑیوں پر پانچ سو سے لیکر تین ہزار پانچ سو روپے‘صوبے میں داخل ہونے والے مال برادر گاڑیوں پر 625روپے سے لیکر دس ہزار روپے تک‘گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس پانچ سو روپے سے بڑھا کر 625روپے‘ آٹھ سو روپے ٹوکن فیس جمع کرانے والی گاڑیوں کے لئے فیس دو سو روپے اضافہ کے ساتھ ایک ہزار روپے ، جبکہ دوسری قسم کی بڑی اور کمرشل گاڑیوں پرٹوکن فیس چار سو سے ایک ہزار روپے بڑھا دی ہے الیکٹرک ڈیوٹی فیس میں 1,5فیصد ، آبپاشی ، ٹیوب ویل ، صنعتی الیکٹرک ڈیوٹی فیس کی شرح میں ایک فیصد اضافہ جبکہ جن علاقوں میں میٹر کے بغیر بجلی سپلائی کی جارہی ہے وہاں پر یہ ٹیکس ڈیڑھ فیصد لگایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال حکومت کے پی کو شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جسے کے باعث ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…