اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کسی کا بھی احتساب نہ کریں،جو جیلوں میں ہیں ان کو بھی چھوڑ دیاجائے ‘ عمران خان کے صبر کا پیمانہ لبریز

datetime 1  جولائی  2016 |

لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم کا احتساب نہیں کرنا تو پھر کسی کا بھی نہ کریں اور جو جیلوں میں ہیں ان کو بھی چھوڑ دیاجائے ، وزیر اعظم اور ان کے خاندان کا احتساب نہ ہوا تو ملک سے کرپشن ،غربت اور امیر غریب کا فرق کبھی ختم نہیں ہو گا،تمام ا پوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے احتساب کے معاملے پر متفق ہیں اور ابھی تک اپوزیشن ہمارے ساتھ ہے لیکن اگر ہمیں تنہا بھی سڑکوں پر آنا پڑا تو آئیں گے ۔نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پانامہ لیکس میں ثابت ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کرپشن اور ٹیکس چوری کا پیسہ باہر لے کر گئے ہیں اور اس انکشاف کے بعد وہ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ حکومت ٹی او آر زکے ذریعے بھی ایسا ہی چاہتی ہے ۔ تمام اپوزیشن متفق ہے کہ اگر وزیر اعظم کا احتساب نہیں کرنا تو پھر کسی کا نہ کریں اور جو جیلوں میں بھرے ہوئے ہیں ان کو بھی چھوڑ دیاجائے ۔ اگر وزیر اعظم پر قانون کا نفاذ نہیں ہونا تو پھر کسی پر اس کا نفاذ نہ کریں ۔وزیر اعظم کی چوری واضح طور پر پکڑی گئی ہے جس میں ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے کرپشن اور چوری سے بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی ہیں۔ اگر ان کا اور ان کے خاندان کا احتساب نہ ہوا تو ملک سے کرپشن ، غربت اور امیر غریب کا فرق کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ اگرہم نے احتساب کر دیا تو پاکستان بن جائے گا ۔ مسلم لیگ (ن) وزیر اعظم کو بچانے کی پوری کوشش کرے گی لیکن اپوزیشن وزیر اعظم کے احتساب کے لئے متحد ہے ۔ ابھی تک اپوزیشن ہمارے ساتھ ہے لیکن اگر ہمیں تنہا بھی چلنا پڑا تو سڑکوں پر آئیں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم کی طبیعت ٹھیک نہیں اور ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ وہ دباؤ نہیں لے سکتے اسی لئے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور مہنگی جگہوں سے شاپنگ کر رہے ہیں ۔ ان کی طبیعت ایسی نہیں کہ دباؤ لے سکیں لیکن انہیں دباؤ تو لینا پڑے گا کیونکہ انکی کرپشن کے واضح انکشافات ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…